’نمک چھڑکنے والے جہاز کا مسئلہ‘، لاہور میں سموگ کے تدارک کیلئے مصنوعی بارش نہ ہو سکی

پاکستان تقریباً 20 سال قبل یہ تجربہ کر چکا ہے

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو سموگ نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ نومبر کے وسط میں پنجاب کی نگراں حکومت نے سموگ کی روک تھام کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں ماہ کے آخر میں ’مصنوعی بارش‘ برسانے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس حوالے سے نگراں صوبائی وزیر ماحولیات بلال افضل کی زیرصدارت سموگ کے تدارک کے لیے اجلاس بھی ہوا۔ اجلاس میں 27 نومبر سے 30 نومبر کو مصنوعی بارش کے لیے موزون قرار دیا گیا تھا اور خبریں گردش کر رہی تھیں کہ 29 نومبر کو مصنوعی بارش کروائی جائے گی، تاہم صوبائی وزارت ماحولیات کے دفتر نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’اس مہینے مصنوعی بارش کا امکان نہیں ہے۔‘
سموگ کے حوالے سے اجلاس میں نگراں صوبائی وزیر ماحولیات بلال افضل نے کہا تھا کہ لاہور میں سموگ کی حالیہ شدت کی 30 فیصد شرح انڈیا سے چلنے والی ہوائیں ہیں، جبکہ 70 فیصد شرح مقامی ٹرانسپورٹ، انڈسٹریز اور گرد و غبار ہے، اور اس کے حل کے طور پر مصنوعی بارش برسانے کا فیصلہ ہوا تھا۔
نگراں صوبائی وزیر ماحولیات بلال افضل سے آج کے دن مصنوعی بارش نہ ہونے کے حوالے سے رابطہ کیا، تاہم اُن کا کہنا تھا ’ان تمام سوالوں کے جواب سموگ سے متعلق صوبائی کابینہ کے اگلے اجلاس کے بعد دیے جائیں گے۔‘
صوبائی وزارت ماحولیات کے دفتر کا کہنا تھا کہ ’اس مہینے مصنوعی بارش کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ ابھی اس حوالے سے بہت کام کرنا ہے۔ اتنی جلدی مصنوعی بارش برسانا مشکل ہے۔‘
صوبائی کابینہ نے لاہور میں مصنوعی بارش برسانے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ورکنگ گروپ بھی قائم کیا ہے۔ چیف سیکریٹری پنجاب کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں لاہور میں مصنوعی بارش برسانے، سموگ ریڈکشن ٹاور کی تنصیب کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا تھا۔
اسی اجلاس میں محکمہ تحفظ ماحولیات کے حکام نے مصنوعی بارش برسانے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ، کلاؤڈ آئیونائزیشن کے طریقہ کار پر بریفنگ دی تھی۔ بریفنگ میں کہا گیا تھا کہ کلاؤڈ سیڈنگ کے لیے پہلا ٹرائل چار سے چھ ہفتے میں متوقع ہے۔ مزکورہ وزارت کے ایک ذرائع کے مطابق کلاؤڈ آئیونائزیشن کے لیے دبئی کی کمپنی کے ساتھ ایم او یو آخری مراحل میں ہے۔
’اگلے چھ ہفتوں میں دبئی کی کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ پانچ سسٹمز کے ذریعے لاہور میں منتخب جگہوں پر کلاؤڈ آئیونائزیشن کا تجربہ کیا جائے گا۔‘
تاہم صوبائی وزارت ماحولیات کے دفتر کے مطابق ’متعلقہ محکمے اور ارکان دبئی سمیت چین سے رابطے میں ہیں تاکہ ضروری آلات اور جہاز کے لیے ٹرید کیا جا سکے۔ اس کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔‘
جامعہ پنجاب، شعبہ جغرافیہ کے سربراہ اور انوائرمینٹل کمیشن پنجاب کے رکن ڈاکٹر منور صابر نے بتایا کہ ہوائی جہاز استعمال کرتے ہوئے کیمیائی عمل کے ذریعے مصنوعی بارش کروانے کا زیادہ تر انحصار موسمی حالات اور بادلوں کی تشکیل پر ہوتا ہے۔
انہوں نے مصنوعی بارش میں حائل ممکنہ رکاوٹوں سے متعلق بتایا کہ ’پاکستان کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں ممکنہ رکاوٹ سرکاری بیوروکریسی ہوتی ہے۔ اب نگراں وزیراعلٰی نے طے کیا ہے اور وزرا بھی متحرک ہیں، لیکن اس وقت جہاز کا مسئلہ ہے جس کے ذریعے نمک کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے صوبائی حکومت یہ جہاز دبئی یا چین سے لے۔ اس جہاز کے اندر ایک کِٹ ہوتی ہے جس میں میٹریل (نمک) رکھا جاتا ہے.‘ ان کے مطابق ’کلاؤڈ سیڈنگ کی ٹیکنالوجی 60 سے 70 سال پرانی ہے. جب بادل گہرے ہوں یعنی بارش والے بادل ہوں لیکن بارش نہ ہو رہی ہو تو اُن کے اوپر جہاز کے ذریعے نمک چھڑکا جاتا ہے۔ یہ نمک بادلوں میں نمی پیدا کرتا ہے۔ نمک کے چھوٹے چھوٹے ذرے مل کر ایک بڑا قطرہ بن کر برس جاتے ہیں۔‘ لاہور میں مصنوعی بارش پر کروڑوں روپے کا تخمیہ لگایا جا رہا تھا، تاہم نگراں صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر نے سموگ کنٹرول کے لیے 35 کروڑ روپے کی لاگت سے مصنوعی بارشوں کے انتظامات کی خبر کو جھوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق حکومت مصنوعی بارش کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ڈاکٹر منور صابر کے بقول ’اگر صرف نمک چھڑکنا ہے تو خرچہ الگ آئے گا اور اگر ’فلیئرز‘ لینے پڑے تو وہ مہنگے ہیں۔ اس طرح خرچہ زیادہ آتا ہے۔‘ انہوں نے انڈیا کے شہر دہلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دہلی تقریباً لاہور جتنا شہر ہے۔ اس کے حوالے سے تخمینہ سامنے آیا تھا کہ وہاں فلیئرز کے ذریعے بارش پر12 کروڑ کا تخمینہ لگایا گیا تھا.‘ انہوں نے ماضی میں مصنوعی بارشوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مصنوعی بارش کا سب سے بڑا نظام چین نے لگایا ہوا ہے جو 50 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ چین اپنے دریاؤں کو سوکھنے سے بچانے کے لیے مصنوعی بارش کرواتا ہے. ’متحدہ عرب امارات میں پانی برسا کر ڈیمز بھر دیے جاتے ہیں اور پھر اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان بھی تقریباً 20 سال قبل یہ تجربہ کر چکا ہے۔ پاکستان کے چھوٹے شہروں میں چھوٹی سطح پر بارش کروائی گئی تھی.‘ ڈاکٹر منور صابر نے ایک اور طریقے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اب تو ایک طریقہ ڈرون کا بھی آ گیا ہے۔ ان ڈرونز کے ذریعے منفی کرنٹ کے آئیون کو جھٹکے مارے جاتے ہیں تو وہ برسنے لگتے ہیں۔ تاہم کسی بھی طریقے پر پر عمل درآمد کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور بادلوں کے تشکیل کو بھی دیکھا جاتا ہے۔‘

Views= (450)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین