آئی پی پیز کے ٹیرف نظرثانی کی درخواست پر سماعت مکمل، صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟

نیپرا میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور سات انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی ٹیرف میں نظرثانی سے متعلق درخواست پر سماعت مکمل ہو گئی۔ صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا۔ نیپرا اتھارٹی اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی۔
سماعت کے دوران آئی پی پیز نے نیپرا سے نارمل پرافٹ پر تحقیقات بند کرنے کی درخواست کی، جبکہ سی پی پی اے نے موقف اختیار کیا کہ آپریشن اینڈ مینٹیننس کی مد میں آئی پی پیز سے رقم ریکور کر لی گئی اور اس مد میں ہونے والی بچت کو حکومت کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
نشاط پاور کے نمائندے نے نیپرا سے استدعا کی کہ ان کی درخواست مشروط ہے اور نظرثانی کی درخواست کو تمام کیسز کے خاتمے سے مشروط کیا جائے۔ مزید برآں، آئی پی پیز نے نیپرا کے تمام نوٹسز کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جبکہ پاور ٹیک کے نمائندے نے سوموٹو پروسیڈنگز واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب، حکومت نے 29 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کا عمل مکمل کر لیا ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں مزید آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ہونے کا امکان ہے۔ سی پی پی اے نے نیپرا اتھارٹی کو معاہدوں کی پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ نارووال انرجی کے نمائندے نے فرنس آئل کی قیمتوں کے لیے بھی کوئی میکانزم بنانے کا مطالبہ کیا۔
سی پی پی اے کے مطابق سات آئی پی پیز کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں 50 پیسے فی یونٹ کمی متوقع ہے، تاہم صارفین نے سوال کیا کہ 20 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات ہونے کے باوجود صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا اور اس وقت دی جانے والی 2 ہزار ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ میں کتنی کمی آئے گی۔

Views= (204)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین