تیسری جنگ عظیم میں نیوکلئیر حملے کی صورت میں دنیا اور پاکستان کے سب سے محفوظ مقامات کونسے؟

دنیا اس وقت ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایک غلط قدم کشیدگی کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے، جس سے یورپ تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔
اس ضمن میں ٹرمپ نے ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی ہے جو اچھی نہیں رہی، اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو یورپ خود کو ولادیمیر پیوٹن کی فوج کے سامنے کھڑا پائے گا۔ اور اگر پیوٹن نے جوہری جنگ چھیڑ دی تو دنیا میں چند ہی مقامات ہیں جو محفوظ رہ سکیں گے۔
جوہری جنگ کے خطرات کے پیش نظر، دنیا بھر کے لوگ اپنی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں۔ اگر پیوٹن نے یوکرین کے لیے مغربی امداد پر سخت ردعمل دیا اور جوہری ہتھیار استعمال کیے، تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک کی قلت اور تباہی پھیل سکتی ہے۔
تاہم، کچھ مقامات ایسے ہیں جو جوہری جنگ کے اثرات سے نسبتاً کم متاثر ہوں گے، جن میں پاکستان کے چند علاقے بھی شامل ہیں۔
لیسٹر یونیورسٹی میں بین الاقوامی سیاست کے پروفیسر اینڈریو فوٹر کے مطابق، ’جوہری حملے کے ابتدائی اثرات سے بچنے کے لیے محفوظ ترین مقامات وہ ہوں گے جو بڑے شہروں، صنعتی مراکز اور فوجی تنصیبات سے دور ہوں، اور جہاں پہاڑ موجود ہوں تاکہ دھماکے کے اثرات سے تحفظ مل سکے۔‘
برطانیہ کے محفوظ مقامات
انگلسی (Anglesey): نارتھ ویلز کے ساحل پر واقع ایک جزیرہ ہے، جو اپنی دور دراز جگہ اور کم آبادی کی وجہ سے حملے کا کم امکان رکھتا ہے۔
کارن وال (Cornwall):
یہ ایک کم آبادی والا دیہی علاقہ ہے، جہاں زرعی زمین اور اٹلانٹک اوشین سے متصل ساحلی پٹی ہے، جو کسی بھی بڑے حملے سے نسبتاً محفوظ رہ سکتی ہے۔
دنیا کے سب سے محفوظ مقامات
انٹارکٹیکا (Antarctica): یہ دنیا کا سب سے کم آبادی والا براعظم ہے، جو اپنی 5.5 ملین مربع میل کی بڑی زمین کی وجہ سے ہزاروں پناہ گزینوں کو پناہ دے سکتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ:
ایک ایسا ملک جس کی غیر جانبداری کی طویل تاریخ ہے۔ اس کے وسیع پہاڑی علاقے اور جوہری حملوں سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے پناہ گاہیں جنگ کے اثرات سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
جنوبی امریکہ کے ممالک: چلی، یوروگوئے اور ارجنٹائن جیسی ریاستیں بھی جوہری جنگ کی صورت میں بہتر مقامات ہو سکتی ہیں، کیونکہ یہ دنیا کے بڑے خوراک پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہیں، جس سے یہاں خوراک کی قلت کا امکان کم ہوگا۔
علاوہ ازیں، اگر پاکستان پر نیوکلئیر حملے کا خطرہ ہو تو کچھ علاقے نسبتاً محفوظ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ مقامات جو شہروں، فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات سے دور ہوں۔ نیوکلئیر حملے کے اثرات میں براہ راست دھماکہ، تابکاری، اور طویل مدتی ماحولیاتی نقصانات شامل ہوتے ہیں، اس لیے محفوظ مقامات کا انتخاب درج ذیل عوامل پر منحصر ہوگا:
بلوچستان (مثلاً خاران، کوہِ سلیمان، چاغی کے دور دراز علاقے)
بلوچستان میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جو ویران اور آبادی سے خالی ہیں۔ یہ علاقے فوجی اور صنعتی مراکز سے کافی فاصلے پر ہیں، اس لیے ہدف بننے کے امکانات کم ہیں۔ بلوچستان میں زیرِ زمین غاریں اور پہاڑ ہیں جو نیوکلئیر حملے کے اثرات سے بچنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
کشمیر کے بلند و بالا پہاڑی علاقے (وادی نیلم، استور، دیوسائی)
to نیوکلئیر حملے کی صورت میں تابکاری زیادہ تر میدانوں میں پھیلتی ہے، جبکہ بلند پہاڑی علاقے کچھ حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں قدرتی پانی کے ذخائر موجود ہیں جو نیوکلئیر اثرات کے بعد بھی زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
صحرائی علاقے (تھر، چولستان، بلوچستان کے ریگستانی علاقے)
اگرچہ صحرا میں پانی اور خوراک کے مسائل ہوں گے، لیکن یہ علاقے بڑے شہروں اور فوجی تنصیبات سے دور ہیں، جس کی وجہ سے براہ راست حملے کا امکان کم ہے۔ تابکاری کے بادل عام طور پر نمی والے علاقوں میں زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں، جبکہ خشک اور کم آبادی والے علاقوں میں یہ خطرہ کچھ کم ہو سکتا ہے۔

Views= (342)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین