اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کی اجازت نہیں، نواز شریف نے خواتین سے لڑنے کا فیصلہ کرلیا

نواز شریف کی متنازع وڈیو سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

پچھلے مہینے اکتوبر میں تقریباً چار برس کی خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف خواتین کے بارے میں متنازع بیان دینے پر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔
بدھ کو کوئٹہ میں اپنی صاحبزادی مریم نواز، بھائی شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کی موجودگی میں ایک تقریب کے دوران بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمارے جلسے بھی ہوتے ہیں جہاں خواتین بھی ہوتی ہیں لیکن وہ پُرامن بیٹھتی ہیں۔‘
اپنی جماعت کی تقریبات کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’خواتین آتی ہیں جلسہ سُنتی ہیں اور وہاں کوئی دھمال یا ناچ گانا نہیں ہوتا۔ یہ پاکستان کا کلچر نہیں ہے۔‘
سوشل میڈیا صارفین نواز شریف کے اس بیان کو ’عورت مخالف‘ قرار دے رہے ہیں اور اُن کے لیے ’عورت بیزار‘ جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔
فوزیہ یزدانی نے ایک ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’آپ کو ہمیشہ خواتین پر کیوں جملے کسنے ہوتے ہیں؟ کیا مریم کو لگتا ہے کہ یہ سب انہیں نئی نسل سے جوڑ دے گا؟‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’خواتین جو چاہتی ہیں وہ ایسا کیوں نہیں کر سکتیں؟ خواتین پاکستان کا 50 فیصد حصہ ہیں، ہمیں یہ بتانا چھوڑ دیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔‘
مصطفیٰ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’نواز شریف کے عورت بیزار بیانات میرے شک کو تقویت دیتے ہیں کہ نواز شریف آج بھی 90 کی دہائی میں اٹکے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’وقت آگیا ہے کہ کوئی نواز شریف کو آگاہ کرے کہ وقت بدل گیا ہے خصوصاً سوشل میڈیا کے عروج کے بعد۔‘
سابق وزیراعظم پر طنز کرتے ہوئے ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کی اجازت نہیں تو نواز شریف نے ملک کی خواتین سے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بار نواز شریف خواتین کے خلاف الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔‘

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ نواز شریف پر خواتین کے حوالے سے بیان دینے پر تنقید ہو رہی ہے۔ اس سے قبل پاکستان آنے کے بعد 21 اکتوبر کو بھی نواز شریف نے خواتین سیاسی کارکنان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دیکھیں ہماری بہنیں کتنے آرام سے جلسہ سُن رہی ہیں، کوئی ڈھول کی تھاپ پر یہاں ناچ گانا نہیں ہو رہا۔‘

Views= (526)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین