سپریم کورٹ کا فیصلہ: فوج کی تحویل سے 9 مئی کے ملزمان کی واپسی کیسے ہوگی؟

دو طریقوں سے ملزمان فوج کے حوالے کیے گئے تھے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوج کو ان افراد پر مقدمات چلانے سے روک دیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 9 مئی کو فوجی تنصیبات میں توڑ پھوڑ کی تھی۔
ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سویلینز کا ٹرائل سول کورٹ ہی کر سکتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایسے ملزمان کی تعداد 103 ہے جن کو فوج کی درخواست پر ان کے حوالے کیا گیا تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے ان افراد کے مقدمات ہر صورت فوجی عدالتوں میں چلانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے سویلینز کے فوجی ٹرائل کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اب یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ اب ان افراد کی واپسی کا عمل کیسے انجام پائے گا۔
مئی کے مقدمات کے لیے مقرر کیے گئے خصوصی پراسکیوٹر سید فرہاد علی شاہ نے بتایا کہ دو طریقوں سے ملزمان فوج کے حوالے کیے گئے تھے۔
’ایک طریقہ یہ تھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جن افراد کے مقدمات چلنا شروع ہو گئے تھے اور بعد ازاں فوج نے ان افراد پر اپنی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے عدالتوں سے کسٹڈی مانگی تو ان عدالتوں نے وہ کسٹڈی تحریری حکم نامے کے ذریعے دی اور پھر جیل سے ان قیدیوں کو فوج کے حوالے کیا گیا۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایسے 16 افراد فوج کے حوالے کیے۔‘
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’کچھ افراد کی کسٹڈی پولیس نے براہ راست فوج کو دی تھی۔ ابھی ان کو متعلقہ عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا تھا ایسے افراد سے متعلق تھانوں کے روزنامچوں میں اندراج کے بعد ان کو فوج کے حوالے کیا گیا۔‘
سپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ کے مطابق ’جن لوگوں کو عدالت کے ذریعے فوج کے حوالے کیا گیا تھا۔ ان کو اسی عدالت میں فیزیکلی پیش کیا جائے گا اور فوج کا کمانڈنٹ تحریری طور پر عدالت کو آگاہ کرے گا۔‘
’عدالت ان کی حاضری لگانے کے بعد ان کو پولیس کے حوالے کر دے گی اور ایک تحریری حکم نامے کے بعد انہیں جیل منتقل کر دیا جائے گا۔ اور ان کے ٹرائل کا عمل وہیں سے شروع ہو گا جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ جبکہ جن لوگوں کو پولیس نے براہ راست روزنامچے میں اندراج کے بعد فوج کے حوالے کیا تھا ان کو واپس انہیں تھانوں میں لایا جائے گا اور روزنامچوں میں اندراج کے بعد پولیس ان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے اگلے دن عدالت پیش کرے گی۔‘
خیال رہے کہ حال ہی میں منظور کردہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت ابھی حکومت کے پاس یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی کے بجائے اپیل دائر کر دے۔
تاہم آئینی اور قانونی ماہرین کاخیال ہے کہ اپیل دائر کرنے سے حکومت کو کئی فائدہ نہیں ہو گا۔
فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اپیل دائر نہیں کرتی اور دائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ عبوری طور پر اس حکم نامے کو معطل نہیں کرتی تو اگلے چند روز میں ملزمان کی واپسی کا کام شروع ہو جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے متعدد کارکنان اس وقت فوج کی تحویل میں ہیں۔ عمران خان کے بھانجے حسان نیازی بھی اس وقت فوجی ٹرائل کے لیے فوج کے حراست میں ہیں۔

Views= (242)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین