’آج ذہنی اور جسمانی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوں

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’میں دو ماہ قبل جیل جانے کے بعد سے ‘پہلے سے زیادہ مضبوط اور بہتر‘ ہوں۔
جیل جانے کے بعد جمعرات کو چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے ان کے اہلِ خانہ نے پہلی بار ایک باضابطہ پیغام جاری کیا۔
عمران خان کو رواں برس اگست میں توشہ خانہ کیس میں بدعنوانی کے الزام تین برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ان پر جنوری 2024 کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
جیل جانے کے بعد جاری کیے گئے پہلے بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ جان لیں کہ آج کے عمران خان اور 5 اگست کو قید ہونے والے عمران خان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‘
’جب 5 اگست کو مجھے اٹک جیل میں قید کیا گیا تھا تو ابتدائی چند روز میرے لیے خاصے مشکل تھے، سونے کے لیے بستر نہیں تھا اور مجھے فرش پر لیٹنا پڑتا تھا۔‘
انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’جیل میں دن کے وقت کیڑے مکوڑے اور رات کو مچھر ہوتے تھے، تاہم اب میں یہاں ایڈجسٹ ہوگیا ہوں۔‘
’میں آج روحانی، ذہنی اور جسمانی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوں، کیونکہ جیل کی تنہائی میں مجھے قرآنِ کریم کا بغور مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا جس نے میرے ایمان کو مزید مستحکم کیا۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’قرانِ کریم کے ساتھ ساتھ میں دیگر کتب کا بھی مطالعہ کر رہا ہوں اور اپنی سیاسی زندگی کے گذشتہ چند برسوں کے واقعات پر غور بھی کر رہا ہوں۔‘
’یہ لوگ مجھے جس جیل میں بھی رکھیں، جیسے حالات میں بھی رکھیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے، نہ ہی میرے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں سے پریشان ہونا ہے۔‘
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’میں عوام کے حق حاکمیت اور آئینِ پاکستان کی بنیادی شرط، صاف شفاف الیکشن کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘
’جو لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں، ان کو میرا ایک ہی جواب ہے کہ میرا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔ میں اپنی دھرتی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔‘
’جہاں تک سائفر مقدمے کا تعلق ہے، یہ مقدمہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور ڈونلڈ لُو کو بچانے کے لیے گھڑا گیا ہے، ملک کا منتخب وزیراعظم تو میں تھا، جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر غداری تو میرے ساتھ کی گئی۔‘
پاکستان کے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’آج مجھ پر مقدمہ اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ میں نے پاکستانی عوام کو اس غداری کی خبر دی۔‘
’مجھے اگر کسی چیز کی تکلیف ہے تو اُن کارکنوں، خصوصاً خواتین کارکنوں کی اسیری کی تکلیف ہے جنہیں طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا چند افراد نے اپنی انا کی تسکین کے لیے کئی ماہ سے قید کر رکھا ہے۔‘
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ’میری عدلیہ سے اپیل ہے کہ ہمارے کارکنوں کو رہائی دلائی جائے۔‘
پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے نام پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ ہر فورم پر اس غیر منتخب حکمران ٹولے اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آواز اُٹھاتے رہیں۔‘
’ملک میں صاف شفاف الیکشن کا مطالبہ کرتے رہیں، میں پیش گوئی کر رہا ہوں کہ جس دن بھی الیکشن ہوئے کروڑوں کی تعداد میں عوام پی ٹی آئی کو ووٹ ڈال کر لندن پلان والوں کو شکست دیں گے۔‘
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ لوگ جتنی مرضی دھاندلی کرلیں، ان کا مقدر صرف اور صرف شکست ہے۔‘

Views= (530)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین