عمران خان نے معروف برطانوی بیرسٹر کی خدمات حاصل کر لیں

عمران خان کی وکالت کیلیے سلمان رشدی کے وکیل کا تقرر نہیں کیا گیا

سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے غیر قانونی حراست اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات میں برطانوی بیرسٹر جیفری رونالڈ رابرٹسن کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔
عمران خان نے انسانی حقوق سے متعلق معروف بیرسٹر جیفری رابرٹسن کے سی کو غیر قانونی حراست اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بین الاقوامی عدالتوں میں مشورہ دینے اور اپنی نمائندگی کرنے کے لیے مقرر کیا ہے۔
کے سی ڈوٹی اسٹریٹ چیمبرز کے بانی سربراہ ہیں۔ انہوں نے ایک ٹرائل اوراپیلیٹ کاؤنسل، ایک بین الاقوامی جج، اورمعروف نصابی کتابوں کے مصنف کی حیثیت سے ایک ممتاز کیریئر گزارا ہے.
ان کی کتابوں میں انسانیت کے خلاف جرائم اور عالمی انصاف کے لئے جدوجہد شامل ہیں۔
عمران خان کی پارٹی کو 9 مئی کے فسادات کے بعد ملک گیر کریک ڈاؤن کا سامنا ہے جس میں مظاہرین نے ریاستی اور فوجی تنصیبات میں توڑ پھوڑ کی تھی۔
9 مئی کے احتجاج کے بعد سے پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت درجنوں رہنماؤں کو سیکڑوں پارٹی کارکنوں کے ساتھ گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کئی نے رہائی کے بعد پارٹی چھوڑ دی جبکہ دیگر رہنما گرفتاری سے بچنے کے لئے فرار ہوگئے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کو 5 اگست کو توشہ خانہ فوجداری معاملے میں 3 سال قید کی سزا اور پانچ سال کے لئے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کر دی تھی تاہم خصوصی عدالت کی جانب سے ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں دو ہفتوں کی توسیع کے بعد ان کی رہائی عمل میں نہیں آسکی۔
رہنما مسلم لیگ ن عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے ملعون سلمان رشدی کے وکیل کو اپنا وکیل مقرر کر دیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی نے عمران خان کی وکالت کے لیے سلمان رشدی کے وکیل کو مقرر کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے۔
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق پی ٹی آئی ملک میں جاری بدترین ریاستی جبر و فسطائیت کی شدید مذمت کرتی ہے۔ایک غیرملکی قانونی فرم کے حوالے سے زیرِگردش گمراہ کن اطلاعات میں کوئی صداقت ہے نہ ہی ایسے کسی اقدام کو جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی کی تائید حاصل ہے۔ جبر، بربریت اور لاقانونیت کے سامنے نظام عدل کا افسوسناک عجز و اضمحلال قوم کے لیے مایوس کن ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ ’’تاہم تحریک انصاف پاکستان کے نظامِ انصاف ہی سے حقوق و انصاف کی طلب گار اور ملک کے نظامِ عدل سے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے مؤثر اقدامات کی متقاضی ہے‘‘۔
ترجمان کے مطابق قاتلانہ حملے کا نشانہ بنائے جانے اور حملے کی تحقیقات سبوتاژ کرنے کے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف محض 16 ماہ کے دوران 180 سے زائد جھوٹے اور جعلی مقدمات قائم کرکے قانون و انصاف کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ وفاقِ پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین سیاسی جماعت کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم تاریخ کے بدترین انتقام کی بھینٹ چڑھتے ہوئے خلافِ قانون جیل میں قید ہیں۔

Views= (455)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین