امریکہ کی پابندیاں، چین نے ’خاموشی سے‘ ٹیک ٹیلنٹ پروگرام بحال کر دیا

چین کی جانب سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے غیرملکی تربیت یافتہ سائنسدانوں کی بھرتی کے ایک اور پروگرام کو چلانے کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق 2018 تک چین نے ایک شاندار فنڈڈ پروگرام کے تحت اعلیٰ غیر ملکی تربیت یافتہ سائنسدانوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی جسے واشنگٹن امریکی مفادات اور ٹیکنالوجی میں بالادستی کے لیے خطرہ سمجھا۔
امریکہ کی جانب سے سائنسدانوں کی تحقیقات کے دوران اس نے تھاؤزنڈ ٹیلنٹ پلان (ٹی ٹی پی) کی تشہیر بند کر دی تھی تاہم دو سال بعد چین نے خاموشی سے اس پروگرام کو نئے نام اور فارمیٹ کے تحت بحال کر دیا۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ 2019 سے 2023 کی سرکاری دستاویزات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ چین کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی مہارتوں میں اضافہ کرنے کا وسیع ترین مشن ہے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ’نئی بھرتی مہم میں گھر کی خریداری پر سبسڈی، تین سے پانچ ملین یوآن، یا چار لاکھ 20 ہزار سے سات لاکھ ڈالر تک کے مخصوص سائننگ بونس سمیت دیگر مراعات کی پیشکش شامل ہے۔‘
اس معاملے کی براہ راست معلومات رکھنے والے ذرائع نے معاملے کی حساسیت کی بنا پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین مختلف سطحوں پر ٹیلنٹ پروگرام چلاتا ہے جس میں بیرون ملک مقیم چینی اور غیر ملکی ماہرین کو شامل کیا جاتا ہے۔ ٹی ٹی پی کے متبادل ’کیمنگ‘ پروگرام کی نگرانی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ’ٹیک ٹیلنٹ‘ کو راغب کرنے کی اس دوڑ کا انکشاف اُس وقت ہوا تھا جب صدر شی جن پنگ نے امریکی برآمدی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سیمی کنڈکٹرز میں خود مختاری کی ضرورت پر زور دیا۔
امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے اکتوبر میں نافذ کیے گئے ضوابط امریکی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کو چین میں جدید چپس کی تیاری اور پیداوار میں مدد فراہم کرنے سے روکتے ہیں۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی زنہوا کے مطابق چین نے اس سے قبل کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ذریعے بیرون ملک سے بھرتیوں کا مقصد جدت پر مبنی معیشت کی تعمیر اور ٹیلنٹ کی نقل و حرکت کو فروغ دینا ہے۔
دو افراد کا کہنا ہے کیمنگ میں سائنسی اور تکنیکی شعبوں سے بھرتی کی جاتی ہے جن میں ’حساس یا کلاسیفائیڈ‘شعبے جیسے کہ سیمی کنڈکٹرز شامل ہیں۔ یہ پروگرام ایوارڈ حاصل کرنے والوں کی تشہیر نہیں کرتا اور مرکزی حکومت کی ویب سائٹس پر بھی اس کے بارے میں کوئی معلومات نظر نہیں آتیں جس سے اس کی حساسیت ظاہر ہوتی ہے۔
امریکہ طویل عرصے سے چین پر انٹلیکچوئل رائٹس اور ٹیکنالوجی کی چوری کا الزام لگاتا رہا ہے تاہم بیجنگ نے ان الزامات کو ’سیاسی‘ قرار دے کر ان کی تردید کی۔
امریکی حکومت کے نیشنل کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی سینٹر کے ترجمان ڈین بوئڈ سے جب چینی ٹیلنٹ کی بھرتی کی سکیموں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’غیر ملکی مخالفین اور اسٹریٹجک حریف سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ امریکی اور مغربی ٹیلنٹ کا حصول اکثر اتنا ہی اچھا ہوتا ہے جتنا کہ ٹیکنالوجی کا حصول۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جب یہ بھرتی مفادات یا وابستگی کے تنازعات کو جنم دیتی ہے تو اس سے امریکی اقتصادی و قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔‘

Views= (320)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین