’آن لائن فراڈ‘ ایپس کی تشہیر کے لیے میڈیا اینکرز کا استعمال، ایک کلک کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے؟
Dec 31 2024 | ویب ڈیسک
ہر گزرتے دن کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی کے نت نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں۔ ان دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آن لائن جوئے یا قمار بازی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کی تشہیر کے لیے اب ٹی وی اینکرز اور مشہور شخصیات کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائی گئی ویڈیوز کی مدد لی جا رہی ہے۔
ایسی متعدد گیمنگ ایپس کے اشتہار گزشتہ کئی ماہ سے گردش کر رہے ہیں جن کی تشہیر میں صحافی، کرکٹرز، یوٹیوبرز، اینکرز اور دیگر شخصیات کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
بہت سے صحافی اس حوالے سے حیران و پریشان نظر آئے کیونکہ ان اشتہارات میں ان کی ویڈیوز، آواز اور انداز کو کاپی کر کے کچھ اس طرح سے لگایا گیا تھا جیسے وہ خود اس مخصوص گیمنگ ایپ کی تشہیر کر رہے ہیں۔
سید مزمل شاہ ایک معروف اینکر پرسن اور یوٹیوبر ہیں۔ ایک گیمنگ ایپ نے ان کے ٹاک شو کی ویڈیو کو استعمال کرتے ہوئے مخصوص طریقے سے اپنی تشہیر کی کوشش کی ہے جو بظاہر ایک خبرنامہ معلوم ہو رہا ہے۔
سید مزمل شاہ نےبتایا کہ ’انہیں یہ سب دیکھ کر حیرانی ہوئی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’میرے کئی دوستوں نے نشاندہی کی کہ میں جوے کی کسی ایپ کی تشہیر کر رہا ہوں۔ میں حیران رہ گیا کیونکہ میں کسی بھی ایسی ایپ کی تشہیر کا حصہ نہیں رہا ہوں۔ میرے ہی شو کے ایک حصے کو تبدیل کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ میں اور اداکار وہاج علی اس ایپ کو استعمال کر چکے ہیں جب کہ ایسا نہیں تھا۔‘
سید مزمل کے مطابق انہوں نے اپنے ادارے کو اس حوالے سے آگاہ کیا لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔
انہوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنے طور پر بھی کوشش کی لیکن ان کا طریقۂ واردات مختلف ہے۔ یہ اوورسیز اکاؤنٹس بناتے ہیں اور اگلے ہی ہفتے وہ بند کر کے نئے اکاؤنٹس کے ذریعے اپنی تشہیر کر رہے ہوتے ہیں۔‘
فیصل عباسی بھی ایک نجی ٹی وی شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ وہ بھی ان جعلی اشتہارات کا شکار ہوچکے ہیں جس کے بعد انہوں نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر وضاحت بھی جاری کی۔
انہوں نے بتایا کہ ’جب مجھے اس بارے میں علم ہوا تو میں چونک گیا کیوں کہ میری آواز، ویڈیو اور میرے چینل کا لوگو بھی اس میں استعمال ہوا تھا۔ عموماً مشہور شخصیات مختلف ایپس کی تشہیر کرتی ہیں لیکن میں کبھی اس طرح کی کیمپین کا حصہ نہیں رہا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے اب ان نوسربازوں کا کام آسان ہوگیا ہے۔ وہ اپنی مرضی کے کسی بھی شخص کی آواز اور ویڈیو بنا کر اپنے کسی بھی غیر قانونی کام یا سرگرمی کی تشہیر کر سکتے ہیں۔‘
فیصل عباسی بتاتے ہیں کہ ’اس طرح کی ایپس نے اب تک کئی گھرانوں کو تباہ کر دیا ہے۔‘
سید مزمل شاہ کے مطابق بہت سارے لوگ ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ فلسفے کا شوقین ایک طالب علم ان کا شکار ہو چکا ہے۔ جب میری اس طالب علم سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اب تک 30 سے 40 لاکھ روپے گنوا چکا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ایسی غیر قانونی کمپنیز نفسیاتی طور پر سادہ لوح لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتی ہیں۔ یہ پہلے آپ کو بار بار جتواتے ہیں لیکن جب آپ کی زیادہ رقم اس میں پھنس جائے تو آپ ہارنے لگتے ہیں جو کہ آپ کے لیے صدمے کا باعث بن سکتا ہے۔‘
آن لائن جوا یا گیمنگ کی یہ ایپس صرف اینکرز یا صحافیوں کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کر رہیں بلکہ کئی مشہور شخصیات کی ڈیپ فیک ویڈیوز بھی مشتہر کی گئی ہیں۔
اب تک معروف فٹبالر کرسٹیانو رسنالڈو، کرکٹر بابر اعظم، یوٹیوبر مسٹر بیسٹ اور دیگر لوگوں کی ویڈیوز اس مقصد کے لیے استعمال جا چکی ہیں۔
یہ ایپس اپنے اشتہار میں ایک خبرنامہ یا نیوز پیکیج بنا کر دکھاتے ہیں جس سے دیکھنے والے با آسانی دھوکہ کھا سکتے ہیں جب کہ کئی اشتہارات میں مشہور شخصیات کے انٹرویوز کو بھی تبدیل کر کے استعمال کیا جا چکا ہے۔
اس حوالے سے ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ان کے خلاف کارروائی تب عمل میں لائی جا سکتی ہے جب اس کا شکار کوئی صارف باقاعدہ طور پر ایف آئی اے کو درخواست دے۔
سابق ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے عمار جعفری بتاتے ہیں کہ ‘ڈیپ فیک یا مصنوعی ذہانت ایک مثبت موقع بھی ہے اور اس کے ذریعے منفی کام بھی کیے جا رہے ہیں۔یہ آپ کا ہر کام بڑی آسانی سے کر سکتی ہے لیکن بیک وقت آپ اس کے ذریعے کسی بھی شخص کی آواز، ویڈیو حتیٰ کہ اس کا انداز گفتگو بھی اپنا سکتے ہیں جس کی وجہ سے ایک طرف تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے تو دوسری طرف دھوکہ دہی کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔‘
سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ محمد اسد الرحمان بتاتے ہیں کہ ’ایسی جعلی اور غیر قانونی کمپنیز ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت کچھ کر رہی ہوتی ہیں۔ آج کل مارکیٹ میں بہت کم پیسوں میں ایسے ٹولز مل جاتے ہیں جن کے ذریعے آپ ہر طرح کی آواز اور ویڈیو بنا سکتے ہیں۔ یوں یہ آپ کے ساتھ صرف مالی فراڈ نہیں کرتے بلکہ یہ آپ کے ڈیوائس یا موبائل ڈیٹا تک رسائی بھی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
محمد اسد الرحمان کے مطابق جب آپ ایسی کسی ایپ کو اپنے موبائل میں انسٹال کرتے ہیں تو آپ غیر ارادی طور پر ان کو اپنے موبائل میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اسے ہم ریٹ (آر اے ٹی) کہتے ہیں جو ریمورٹ ایکسس ٹروجن کا مخفف ہے۔ نوسرباز کسی ایپ یا لنک کے ذریعے آپ کے موبائل میں ایسا لنک یا ایپ انسٹال کر دیتے ہیں جو آپ کے کیمرے، مائیکرو فون اور دیگر فیچرز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔‘
آن لائن نوسربازوں اور فراڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی تو ہو رہی ہے لیکن اسد الرحمان سمجھتے ہیں کہ ’ان کو پکڑنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘
Views= (357)
Join on Whatsapp 1 2