ٹرمپ کی ”بیوقوفانہ“ تجارتی جنگ ، کینیڈا، میکسیکو اور چین کی جوابی کارروائی

امریکا کی جانب سے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد اضافی ٹیکس کا نفاذ ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی چین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر بھی اضافی رقوم کا اطلاق شروع ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے فروری میں کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں اسے ملتوی کر دیا تھا۔ تاہم، منگل کو انہوں نے اس فیصلے کو نافذ کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں ناکامی دکھائی ہے۔ کینیڈا کی جوابی کارروائی کے بعد ٹرمپ نے فوری طور پر مزید سخت اقدامات کی دھمکی دے دی۔ یہ محصولات 918 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات پر لاگو ہوں گے، جس سے ایواکاڈو سے لے کر امریکی گھروں کی تعمیر کے لیے ضروری لکڑی تک، سب کچھ متاثر ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ کینیڈا نے 155 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات پر 25 فیصد جوابی ٹیرف نافذ کر دیا۔ منگل کو امریکا کی جانب سے کینیڈا، میکسیکو اور چین پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا گیا، جس کے جواب میں تینوں ممالک نے فوری اور سخت ردعمل دیا۔ میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام نے کہا کہ وہ اتوار کو اپنے ملک کے جوابی اقدامات کا اعلان کریں گی۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس اقدام کو عالمی تجارتی تنظیم میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا امریکا کے آگے نہیں جھکے گا اور پرامن طریقے سے اس کا مقابلہ کرے گا۔ کینیڈا کا بھرپور جواب اوٹاوا نے 30 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات پر 25 فیصد جوابی ٹیرف منگل کو نافذ کر دیا، اور وزیر اعظم ٹروڈو نے اعلان کیا کہ مزید 125 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر 21 دنوں میں محصولات عائد کیے جائیں گے۔ ٹروڈو نے کہا کہ ’کینیڈین عوام معقول اور مہذب ہیں، لیکن ہم اس جنگ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے‘۔ انہوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ”سمارٹ آدمی“ ہیں، لیکن ان کے یہ اقدامات ”انتہائی بیوقوفانہ“ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کینیڈا کی معیشت کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے ضم کرنا آسان ہو جائے۔ انہوں نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ اپنے قریبی اتحادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ نرمی برت رہا ہے۔ اضافی محصولات کے نفاذ کے باعث امریکی، یورپی اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تجارتی جنگ کے بڑھنے سے عالمی منڈیوں میں مندی دیکھی گئی۔ وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکس ایس اینڈ پی 500 میں تیزی سے کمی آئی، جس سے ٹرمپ کے انتخاب کے بعد ہونے والے تمام فوائد مٹ گئے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹرتھ سوشل“ پر ردعمل دیتے ہوئے ٹروڈو کو ”امریکی گورنر“ قرار دیا اور کہا، ’جب کینیڈا امریکا پر جوابی ٹیرف لگاتا ہے، تو ہمارا جوابی ٹیرف بھی اسی مقدار میں بڑھ جائے گا!‘ بیجنگ نے ڈبلیو ٹی او میں شکایت درج کرا دی ٹرمپ نے پیر کو چین پر پہلے سے عائد 10 فیصد ٹیرف کو بڑھا کر 20 فیصد کرنے کے حکم نامے پر بھی دستخط کیے، جس سے پہلے سے موجود محصولات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ چین نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ”یکطرفہ اور غیر منصفانہ“ قرار دیا اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شکایت درج کرا دی۔ بیجنگ نے امریکی زرعی مصنوعات پر 10 سے 15 فیصد تک اضافی محصولات لگانے کا اعلان کیا ہے۔ چین نے اعلان کیا کہ اس کے جوابی محصولات اگلے ہفتے سے نافذ ہوں گے، جس سے سویا بین سے لے کر مرغی تک، اربوں ڈالر کی امریکی برآمدات متاثر ہوں گی۔ بیجنگ نے امریکی لکڑی کی درآمدات کو معطل کرنے اور تین بڑی امریکی کمپنیوں کی سویا بین شپمنٹ روکنے کا بھی اعلان کیا۔ چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ امریکی تجارتی جنگ کے خلاف ”آخر تک“ لڑیں گے۔

Views= (354)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین