کوما کا مریض آئی سی یو سے فرار، ہسپتال پر 1 لاکھ روپے فراڈ کا الزام

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شمال مغربی علاقے رتلام میں ایک واقعہ پیش آیا جب ایک معمولی زخم کے علاج کیلئے جانے والے مریض کو اسپتال کے عملے نے کوما کا مریض قرار دے کر اسے آئی سی یو منتقل کردیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص کو جب اس بات کا علم ہوا کہ اسپتال حکام اس کے ساتھ فراڈ کر رہا ہے تو وہ آئی سی یو وارڈ سے باہر نکل آیا۔ مذکورہ شخص کا دعویٰ ہے کہ اسپتال کی جانب سے اس کے اہلخانہ سے اس کے علاج کیلئے ایک لاکھ بھارتی روپے مانگے جا رہے تھے۔
فری پریس جرنل کی رپورٹ کے مطابق دین دیال نگر میں رہنے والے بنٹی نناما کو جھگڑے کے دوران چوٹ لگنے کے بعد اسپتال لے جایا گیا تھا۔ بنٹی کے اہلخانہ سے اسپتال حکام نے کہا کہ اسے ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹ آئی ہے اور وہ کوما میں ہے، اسے فوری اور مہنگے علاج کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنٹی کے اہلخانہ نے اس کی جان بچانے کیلے فوری طور پر دوستوں اور خاندان والوں سے قرض لے کر بڑی رقم اکٹھی کرنا شروع کی۔
لیکن آگے جو ہوا وہ بہت چونکا دینے والا تھا۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی جس میں دکھایا گیا کہ بنٹی نناما جسے کہا گیا تھا کہ وہ کوما میں ہے، وہ بغیر کسی بیماری کے علامات کے آئی سی یو وارڈ سے باہر نکل آیا اور احتجاج شروع کردیا۔
نناما نے دعویٰ کیا کہ اسپتال کےعملے کے پانچ ارکان نے اسے پکڑ کر رکھا تھا اور اس کے اہل خانہ کو علاج کی بھاری رقم دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا تھا۔ وہ فرار ہونا چاہتا تھا، اس لیے اس نے ایک موقع تلاش کیا اور آئی سی یو سے باہر نکل آیا۔
بعد ازاں اس کی اہلیہ نے صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا اسپتال حکام نے ہم سے جھوٹ بولا کہ نناما کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہے اور وہ کوما میں ہے۔ انہوں نے ہمیں دوائیاں لکھ کر دیں، اور ہم نے وہ سب خرید لیں۔ پھر بھی انہوں نے ہم سے علاج کے لیے ایک لاکھ روپے مانگے۔ ہمیں اپنے رشتہ داروں سے پیسوں کی بھیک مانگنی پڑی، اسے جمع کرنے کے لیے ادھر ادھر بھاگنا پڑا، اور آخر کار رقم جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
سوشل میڈیا پر جب یہ معاملہ اٹھا تو صارفین نے نجی اسپتالوں کے اس گھناؤنے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے۔ سوشل میڈیا پر، کچھ صارفین نے اسپتال کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

Views= (682)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین