مستونگ میں ہونے والے خود کش دھماکے کی ویڈیو سامنے آگئی

اسسٹنٹ کمشنر مستونگ عطا المنعم بال بال بچ گئے

بلوچستان کے شہر مستونگ میں الفلاح روڈ پر عید میلاد النبیﷺ کے جلوس میں ہونے والے خود کش دھماکے کی ویڈیو سامنے آگئی۔
جلوس روانگی کی تیاری کے وقت خود کش دھماکا کیا گیا، جلوس کے شرکا نعت خوانی میں مصروف تھے کہ جلوس میں شامل گاڑی کے قریب دھماکا ہوا۔
دوسری جانب خود کش دھماکے میں اب تک 52 افراد شہید اور 60 کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بلوچستان حکومت نے صوبے میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں پانچ افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق دھماکہ مسجد میں جمعے کے خطبے کے دوران ہوا جس سے مسجد منہدم ہو گئی۔ اس وقت مسجد میں 30 سے 40 کے لگ بھگ نمازی موجود تھے۔
بلوچستان کے حکام کے مطابق خودکش حملہ جمعے کی صبح کوئٹہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور مستونگ کے ہیڈکوارٹر میں میونسپل کمیٹی کے دفتر کے قریب محراب روڈ پر مدینہ مسجد کے سامنے ایک میدان میں ہوا جہاں لوگ 12 ربیع الاول کے جلوس کے لیے جمع تھے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ بلوچستان صالح محمد ناصر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’دھماکہ خودکش تھا جس میں پولیس اور جلوس کے شرکا کو ایک ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ ڈی ایس پی نواز گشکوری پولیس اہلکاروں کے ہمراہ سیکورٹی کے لیے موجود تھے اس دوران نامعلوم خودکش حملہ آور نے ان کے قریب آ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ مرنے والوں میں ڈی ایس پی نواز گشکوری بھی شامل ہیں۔‘
آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ کا کہنا ہے کہ مدینہ مسجد کے قریب چھوٹے جلوس جمع ہوگئے تھے یہاں سے مرکزی جلوس نکلنا تھا۔
ان کے مطابق ’خودکش بمبار کو روکنے کی کوشش میں ڈی ایس پی شہید ہوئے۔ دھماکے میں تین اہلکار زخمی بھی ہوئے، جلوس میں لوگ زیادہ ہونے کی وجہ سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔‘
آئی جی بلوچستان کا کہنا تھا کہ اس دہشت گردی کا مقصد بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
ایک عینی شاہد عطا اللہ نے بتایا کہ ’یہ مستونگ میں 12 ربیع الاول کا مرکزی جلوس تھا جس کے لیے ضلع بھر سے دو سے تین ہزار لوگ جمع ہو چکے تھے۔ جلوس 11 بجے شروع ہونا تھا تاہم اس سے 10 منٹ پہلے ہی اس جگہ دھماکہ ہوا جہاں جلوس کی قیادت کرنے والے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران کھڑے تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر مستونگ عطا المنعم بھی موقع پر موجود تھے تاہم وہ بال بال بچ گئے۔‘
دھماکے کے بیشتر زخمیوں کو مستونگ کے نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر سعید احمد کے مطابق 80 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا جن میں ایک بڑی تعداد شدید زخمی ہے۔ شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جبکہ معمولی زخمیوں کو مرہم پٹی کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
ڈاکٹر سعید نے بتایا کہ ’ایک ساتھ بہت زیادہ زخمی آنے کی وجہ سے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو کام کرنے میں مشکل پیش آئی۔ لوگ بھی کافی مشتعل تھے اور ہمارے ایک سکیورٹی افسر پر تشدد بھی کیا گیا۔ اس صورتحال میں ہمارے لیے مرنے والوں اور زخمیوں کو اندراج کرنے میں بھی دقت پیش آئی۔ کچھ لوگ ضابطے کی کارروائی کے بغیر ہی اپنے پیاروں کی لاشیں لے گئے۔‘
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر مستونگ ڈاکٹر عبدالرشید محمد شہی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہلاکتوں کی تعداد 52 ہو گئی ہے اور زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔‘
تاہم بلوچستان کے نگراں وزیر داخلہ کیپٹن ریٹائرڈ زبیر جمالی نے اب تک 45 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ آئی جی پولیس نے ہلاکتوں کی تعداد 30 بتائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جانی نقصان میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سارے لوگ شدید زخمی ہیں۔ انہیں لوہے کے ذرات لگے ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق کوئٹہ اور مستونگ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ مستونگ سے 58 زخمیوں کو کوئٹہ کے سول اور بولان میڈیکل ہسپتال لایا گیا جن میں سے چھ راستے میں یا پھر ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے۔ پانچ زخمیوں کی موت سول ہسپتال اور ایک کی بولان میڈیکل کمپلیکس میں ہوئی۔ اس وقت 51 زخمی سول ہسپتال اور ایک بی ایم سی میں زیرعلاج ہیں۔
پولیس کے مطابق مرنے والوں میں 23 کی شناخت ہوئی ہے جن میں جلوس کی قیادت کرنے والے مسجد کے خطیب مفتی سعید احمد بھی شامل ہیں۔
مرنے والوں باقی افراد کی شناخت مزار خان، نظام، نور اللہ، ارغل، ناظم الدین، نثار احمد، شریف احمد، نصیب اللہ، نظام ، فیض سلطان، خادم حسین، سرفراز احمد، سلطان، شبیر احمد، محمد امین، میر احمد، ممتاز، کریم داد، محمد عالم، طارق اور سرفراز اسد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ بیشتر کا تعلق مستونگ سے ہی تھا۔
مستونگ کالعدم داعش اور ٹی ٹی پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ جون 2017 میں پاکستان فوج، ایف سی اور حساس اداروں نے مستونگ کے پہاڑوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن کر کے داعش کے کیمپ کو تباہ اور 12 کمانڈروں کو ہلاک کیا تھا۔
تین روز تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں پاکستان فوج کے کمانڈوز اور ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا تھا۔
رواں ماہ 12 ستمبر کو مستونگ میں داعش کے ایک اہم کمانڈر غلام الدین عرف شعیب کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے آپریشن میں ہلاک کیا۔ ایک انٹیلی جنس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اس آپریشن کے بعد مستونگ میں دہشت گردی کا خطرہ موجود تھا۔‘

Views= (1086)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین