روسی دھمکی کے بعد جی 20 کانفرنس کا ٹھنڈا اعلامیہ جاری

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جاری جی 20 کانفرنس کے اعلامیے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اعلامیے میں انسانی مصائب اور دنیا بھر میں جاری جنگوں اور تنازعات کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے تاہم روس یوکرین جنگ میں ماسکو کو ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کیا گیا ہے۔
جی 20 ممالک کے رہنماؤں نے اس معاملے پر اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام ریاستوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق کام کرنا چاہیے۔
اعلامیہ میں جی 20 کے رکن روس کا نام لیے بغیر کہا گیا ’تمام ریاستوں کو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف علاقائی حصول کے لیے دھمکی دینے یا طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی ناقابل قبول ہے۔‘
خیال رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جی 20 کے اس سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔ روس کی نمائندگی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کی تھی جنہوں نے دھمکی دی کہ اگر روس کے نقطہ نظر کو اعلامیے میں شامل نہ کیا گیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔
جولائی میں، روس نے ایک معاہدہ معطل کر دیا تھا جس کے تحت یوکرین کو اپنا اناج بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
اس اقدام سے کئی ممالک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
دہلی کے اعلامیے میں اس معاہدے کے ’مکمل، بروقت اور مؤثر نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ روسی فیڈریشن اور یوکرین سے اناج، کھانے پینے کی اشیاء، اور کھادوں کی فوری اور بلا روک ٹوک ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا تھا کہ مشترکہ اعلامیے میں یوکرین کی جنگ سے متعلق سیکشن میں موجودہ خدشات بیان کیے گئے ہیں۔
بی بی سی کی نمائندہ سمیرا حسین نے ان سے سوال کیا تھا کہ کیا یوکرین کے بارے میں دہلی میں استعمال کی جانے والی زبان گزشتہ سال کے بالی اعلامیے کے مقابلے میں ہلکی رکھی گئی تھی تاکہ روس کو اس پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جا سکے؟
جس پر ایس جے شنکر نے کہا کہ ’میں صرف یہ کہوں گا کہ بالی بالی تھا اور نئی دہلی نئی دہلی ہے، بالی کانفرنس ایک سال پہلے ہوئی تھی، تب صورت حال مختلف تھی، اس کے بعد سے بہت سی چیزیں ہو چکی ہیں۔‘
جے شنکر نے کہا کہ اعلامیہ کے جیو پولیٹیکل حصے کے آٹھ پیراگراف تھے جن میں سے سات یوکرین کے مسئلے پر مرکوز تھے۔
بی بی سی کے مطابق دہلی اعلامیہ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یوکرین جنگ پر روس کی مذمت میں زبان اتنی مضبوط نہیں جتنی گزشتہ سال بالی اعلامیہ میں تھی۔
دہلی اعلامیہ میں جنگ کے لیے روس پر براہ راست تنقید نہیں کی گئی ۔ لیکن ’عالمی خوراک اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے یوکرین میں جنگ کے انسانی مصائب اور منفی اضافی اثرات‘ پر بات کی گئی ہے۔
بین الاقوامی نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اتنا پیچیدہ تھا کہ آخر وقت تک یوکرائن جنگ سے متعلق پیراگراف کی جگہ خالی چھوڑی گئی تھی۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں الجزیرہ ٹی وی کی ایک رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ ہوسکتا ہے دہلی میں جی 20 کے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہ ہوسکے۔
اعلامیے میں عالمی اقتصادی صورتحال پر بھی پیراگراف شامل ہیں اور مساوی ترقی کو فروغ دینے، میکرو اکنامک اور مالیاتی استحکام کو بڑھاکر کمزوروں کے تحفظ کا عہد کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ’ایسا طریقہ زندگی جینے میں درپیش مسائل کو حل کرنے اور مضبوط، پائیدار، متوازن، اور جامع ترقی کی راہیں کھولنے میں مدد کرے گا۔‘
جی 20 رہنماؤں نے ترقی کو تیز کرنے اور پائیدار اقتصادی تبدیلیوں کو چلانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا بھی عزم کیا۔

Views= (367)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین