’دھاندلی‘ کے شور میں آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا قرض ’مانگ‘ لیا گیا

آئی ایم ایف کو مداخلت کی دعوت ملک دشمنی نہیں تو کیا ہے؟

پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام اننتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات نے ملکی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے اڈیالہ جیل سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں ہم واضح طور پر کہیں گے کہ اگر آئی ایم ایف نے پاکستان سے بات چیت کرنی ہے تو پہلے وہ یہ واضح کر دے کہ جتنے حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے، ان حلقوں کا آڈٹ ہو۔‘
’اگر آڈٹ نہیں ہوتا یہ جو دھاندلی ہے اسے ختم نہیں کیا جاتا تو پھر آئی ایم ایف کا قرضہ دینے کا کوئی بھی اقدام پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو گا۔‘ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے کم از کم چھ ارب ڈالر کے نئے قرضے کے حصول کے لیے کوشاں ہے تاکہ نئی حکومت کو رواں برس اربوں ڈالر کے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں مدد مل سکے۔
بلومبرگ نیوز نے جمعرات کو ایک پاکستان عہدیدار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے توسیعی فنڈ کی سہولت کے لیے مذاکرات کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق قرض دینے والے عالمی ادارے کے ساتھ مارچ یا اپریل میں مذاکرات متوقع ہیں۔
پاکستان گذشتہ برس عالمی مالیاتی ادارے کے قلیل المدتی بیل آؤٹ پیکج کی وجہ سے ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا تھا لیکن یہ پروگرام اگلے ہفتے ختم ہو رہا ہے اور نئی حکومت کو اب طویل المدتی بندوبست کرنا پڑے گا تاکہ 350 ارب ڈالر کی معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
جنوبی ایشیائی ملک کو بیل آؤٹ پیکج سے قبل آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کیے گئے سخت اقدامات کرنا ہوں گے جن میں بجٹ پر ازسرنو نظرثانی بھی شامل ہے جس کے علاوہ شرح سود، بجلی اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔
’آئی ایم ایف کو مداخلت کی دعوت ملک دشمنی نہیں تو کیا ہے؟‘
بیرسٹر علی ظفر کے اس بیان کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ’عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی تصدیق افسوسناک ہے۔ اپنے دور میں ریکارڈ قرضہ لینے والوں کو اب یاد آیا ہے کہ قرضہ واپس کون کرے گا۔‘
’آئی ایم ایف کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دینا ملک دشمنی نہیں تو کیا ہے؟ آئی ایم ایف کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں۔‘ مسلم لیگ ن کے رہنما عطااللہ تارڑ نے جمعرات کو کہا تھا کہ ’آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا مقصد بیرونی مداخلت کو دعوت دینے کی کوشش ہے، پچھلی بار بھی ان کی سازش پکڑی گئی تھی۔ ان کے مذموم مقاصد کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘
شدید تنقید کا نشانہ بننے کے بعد جمعے کو بیرسٹر علی ظفر نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہمیشہ پاکستان اولین ترجیح رہے گا۔ پاکستان کے عوام کی خوشحالی کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، بہتر گورننس اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ روابط جاری رکھنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملکی و قومی مفاد کی سمت میں اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی۔
آئی ایم ایف نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار
دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی استحکام اور خوشحالی کے لیے نئی حکومت کے ساتھ پالیسیز پر کام کے منتظر ہیں۔
جمعرات کو نیویارک میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی کمیونیکشین ڈائریکٹر جولی کوزیک نے میڈیا بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایگزیکٹیو بورڈ نے 11 جنوری کو سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے ریویو کی منظوری دی تھی جس کے تحت ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر جاری ہوئے۔
جولی کوزیک نے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بدولت معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں مدد ملتی ہے اور اس کے تحت مالی طور پر کمزور ممالک پر توجہ دی جا رہی ہے۔
جب ان سے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے خط لکھنے کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے تبصرے سے احتراز کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں جاری سیاسی امور پر بات نہیں کروں گی اور جو کہا ہے اس میں مزید اضافہ نہیں کروں گی۔‘

Views= (236)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین