جنسی ہراسانی کیس میں ڈی جی پیمرا ملازمت سے برطرف، 25 لاکھ جرمانہ

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف وفاقی محتسب کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پیمرا کے ڈائریکٹر جنرل (اپیل کنندہ) ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنادی ساتھ اس پرعائد جرمانہ 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کردیا۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ بات کسی بھی معقول شک سے بالاتر ہے کہ خاتون ملازم کو ملزم کی جانب سے زبانی، فحش، جنسی اور توہین آمیز تبصروں اور مطالبات کے ذریعے ہراساں کیا گیا۔
صدر نے کہا کہ جب بھی اس طرح کے معاملات کو منظر عام پر لائے گئے اور ثابت ہوئے انہوں نے خواتین کے لیے کام کرنے کے شک و شبے سے بالاتر محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے سخت استثنیٰ لیا اور قانون کا پوری طاقت کا استعمال کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد ان خواتین کی عظیم اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانا تھا جو کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خوف کی وجہ سے مستفید نہ ہوسکیں۔
صدر نے حکم دیا کہ معاوضے کی رقم تنخواہ کے بقایا جات (اگر کوئی ہے)، پنشن کی رقم یا اپیل کنندہ کے کسی دوسرے ذریعے (جائیداد) سے ورک پلیس ایکٹ 2010 میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کی دفعہ 4(i)(d) کے تحت وصول کی جائے اور شکایت کنندہ کو ملزم کے باعث درپیش مشکلات کے بدلے معاوضے کے طور پر دی جائے۔
صدر کی جانب سے اس تاریخی فیصلے کا اعلان ملزمان، شکایت کنندہ اور ان کے وکلا کی ذاتی طور پر طویل سماعتوں کے علاوہ شواہد کو درست کرنے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور کیس کی پوری کارروائی کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔
فیصلے میں صدر نے کہا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو وفاقی محتسب کی جانب سے مقدمے کی کارروائی کے دوران بھی، اپنی معطلی کی مدت میں، آئی جی پولیس، اسلام آباد اور ڈی جی (ایف آئی اے)، سائبر کرائم میں شکایت کنندہ کے خلاف درخواستیں دائر کرکے ہراساں کرنا جاری رکھا جو شکایت کنندہ کے لیے شدید ذہنی اذیت اور اس کی ساکھ داؤ پر لگانے کا سبب بنا۔
صدر نے مزید کہا کہ ملزم کا مذکورہ فعل پاکستان کے قوانین بالخصوص پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ ورک پلیس ایکٹ 2010 کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ہراسانی کے خلاف ہمت کر کے مقدمہ درج کرانے والی خواتین کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
اپنے حکم نامے میں صدر نے لکھا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا 50 فیصد سے زیادہ ہیں اور ممکنہ طور پر ہراساں کیے جانے کی وجہ سے آزادانہ کام کرنے سے قاصر ہیں۔

Views= (271)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین