بجٹ میں تنخواہ دار نشانے پر: ’اب صرف 2 آپشنز ہیں، سیلری کیش میں لیں یا ملک چھوڑ دیں‘

حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر غیرمعمولی ٹیکس عائد کیے جانے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور ماہرین نے سخت ردعمل دیا ہے۔ معاشی امور کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار شہباز رانا نے کہا کہ ’تنخواہ دار طبقے کو حکومت کی جانب سے عائد کیے جانے والے بھاری ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے، اب صرف 2 آپشنز ہیں کہ تنخواہ کیش میں لیں یا ملک چھوڑ دیں۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ایکس پر شہباز رانا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایک بار پھر بجٹ میں سب سے زیادہ تنخواہ دار طبقہ ہی نشانے پر رہا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب جب پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس کے لیے آئے تووہاں موجود صحافیوں نے تنخواہ پر غیرمعمولی ٹیکس لگانے پر احتجاج کیا۔ جس کے حوالے سے صحافی شہباز رانا نے کہا کہ صحافیوں نے ٹیکس پر اضافے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا دیگر افراد بھی اپنا کردار ادا کریں۔
آئی ٹی انڈسٹری کے ”ڈیتھ وارنٹ“ پر دستخط
دوسری جانب پاکستان سوفٹ ویئر ہاؤس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر پر انکم ٹیکس بڑھانے سے پروفیشنلز کی حوصلہ شکنی ہوگی اور وہ ملک چھوڑنے کو ترجیح دیں گے۔ اس حوالے سے انڈسٹری کی طرف سے دی جانے والی سفارشات کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ اپریل سے اب تک آئی ٹی سیکٹر مضبوط رہا ہے۔ اس کی آمدنی بھی 31 کروڑ ڈالر رہی ہے جو ریکارڈ ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران آئی ٹی سیکٹر نے 2 ارب 59 کروڑ ڈالر کمائے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2 ارب 14 کروڑ ڈالر کمائے گئے تھے۔
عرب نیوز کی رپورٹ میں پاشا کے حوالے سے کہا گیا کہ نگران حکومت کی جانب سے ایکسپورٹرز کے خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس میں برقرار رکھنے کی حد 35 فیصد سے 50 فیصد کرنے کی اجازت کے بعد پاکستانی آئی ٹی کی برآمدات 3.5 ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔
اس پس منظر میں پاشا کے سینئر وائس چیئرمین علی احسان نے کہا کہ حکومت نے نئے بجٹ کے ساتھ آئی ٹی انڈسٹری کے ”ڈیتھ وارنٹ“ پر دستخط کیے ہیں۔
احسان نے کہا کہ حکومت کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے تھا کہ پاکستان کی معیشت کا آخری نجات دہندہ آئی ٹی انڈسٹری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں شامل تنخواہ دار طبقے پر زیادہ انکم ٹیکس ”پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری سے ہنر مند افرادی قوت کے بیرون ملک جانے کو مزید تقویت دے گا“۔
نان فائلرز کا بوجھ بھی پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر ڈال دیا
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ماہر ٹیکس امور ذیشان مرچنٹ نے کہا کہ ’حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر ظلم کیا ہے کیونکہ یہی شعبہ ٹیکس دیتا ہے اور اسے سب سے زیادہ ٹیکس کا سامنا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حکومت نے نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ لانے میں ناکامی کے بعد اس شعبے پر ٹیکس کا زیادہ نفاذ کر دیا جو پہلے سے ٹیکس دے رہا تھا‘۔
رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی کُل ٹیکس سلیب 6 ہی ہیں تاہم تاہم چار سلیبز ٹیکس کی شرح تبدیل کی گئی ہے۔ نئے سیلبز یہ ہیں۔
پہلا سلیب: تنخواہ 6 لاکھ روپے سالانہ دوسرا سلیب: تنخواہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ تیسرا سلیب: تنخواہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 12-24 لاکھ تھا۔) چوتھا سلیب: تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 24-36 لاکھ تھا۔) پانچواں سلیب: تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 36-60 لاکھ تھا۔) چھٹا سلیب: تنخواہ 41 لاکھ سے زیادہ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 60 لاکھ سے زیادہ تنخواہ والے افراد کیلئے تھا۔)

Views= (512)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین