گھریلو جانوروں پر ظلم، لاہور کے رہائشی کیخلاف انسدادِ تشدد جانور ایکٹ کے تحت پہلی ایف آئی آر درج

لاہور: جانوروں پر تشدد اور بے رحمی کے تدارک کے لیے لاہور میں بنائے گئے اینیمل ریسکیو سینٹر کے عملے نے ٹاؤن شپ کے علاقہ میں ایک شہری کے گھر سے بڑی تعداد میں پالتو جانور اور پرندے ریسکیو کیے ہیں جنہیں انتہائی بری حالت میں رکھا گیا تھا۔
پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر نے جانوروں سے بے رحمی کے قانون کے تحت پہلی ایف آئی آر درج کی ہے۔ سینٹر نے انسدادِ تشدد جانور ایکٹ 1890 کے تحت پہلی ایف آئی آر درج کی ہے۔
انچارج پولیس اینمل ریسکیو سینٹر لیڈی وارڈن عروسہ حسین کی مدعیت میں تھانہ ٹاؤن شپ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ سنٹر حکام کے مطابق ٹاؤن شپ کے شکیل نامی رہائشی نے گھر کی چھت پر پرندے اور جانور رکھے ہوئے تھے، شکایت پر شہری کے پرندوں اور جانوروں کو چیک کیا گیا جو انتہائی لاغر حالت میں پائے گئے۔ شہری کے گھر کی چھت پر مردہ جانوروں کی ہڈیاں اور باقیات بھی ملی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مالک نے پرندوں اور جانوروں کے کھانے پینے کے مناسب انتظامات بھی نہیں کیے تھے، شہری کی چھت سے ملنے والے پرندوں، جانوروں کو سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔
واضع رہے کہ جانوروں اور پرندوں پر تشدد،ان کو بھوکا پیاسا رکھنا اور ان کے ساتھ بے رحمی کا سلوک کرنا قانون جرم ہے۔ شعبہ انسداد بے رحمی حیوانات کے پاس جانوروں پر تشدد کرنیوالوں کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے تاہم پنجاب لائیو اسٹاک کی نااہلی کے باعث یہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور میں قائم یہ ادارہ عملی طور پر غیر فعال ہے۔
آئی پنجاب کی ہدایت پر گزشتہ ماہ لاہور میں پہلا پولیس اینیمل ریسکیو وسنٹر قائم کیا گیا تھا۔ یہ سینٹر جانوروں کی ویلفیئر کے لیے کام کرنیوالی این جی او کی معاونت سے قائم کیا گیا ہے جس کی سربراہی جے ایف کے نامی این جی او کی سربراہ ضوفشاں انوشے کو دی گئی ہے۔

Views= (733)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین