انسانی اسمگلروں نے یورپ تک ’وی آئی پی‘ روٹ نکال لیا

رات کے اندھیرے میں کولمبیا کوسٹ گارڈ کی ایک ٹیم ٹیکنالوجی سے لیس ریڈار اسپیڈ بوٹ پر سوار ہوئی، یہ کوئی رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا۔
حالیہ کچھ سالوں میں اسمگلر پناہ کے متلاشیوں اور تارکین وطن کو شمالی امریکا سے جنوبی امریکا تک سفر کرنے کے متبادل طریقے پیش کر رہے ہیں۔
ان متبادل راستوں کو ”’وی آئی پی‘ راستوں“ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس دوران وہ سمندر کے خطرناک حصوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی منزل کی پہنچیں گے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ بیرون ملک سفر اتنے محفوظ نہیں ہو سکتے جتنا کہ ان کی تشہیر کی جاتی ہے۔
سان اینڈریس کوسٹ گارڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ کمانڈر سانتیاگو کوروناڈو بتاتے ہیں کہ ان ”وی آئی پی راستوں“ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے کولمبیا کے ساحل پر قانون نافذ کرنے والی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ حقیقت میں جہاں اسمگلروں کو پکڑنا سب سے مشکل ہے، وہ سمندر میں ہے۔ ہم نے اپنے گشت میں اضافہ کیا ہے تاکہ لوگ اپنی ذندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے بچ سکیں۔
ان راستوں سے سفر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر تقریباً ایک ہزار 400 ڈالرز سے لیکر 8 ہزارڈالز میں فروخت کیا جاتا ہے۔”وی آئی پیروٹ“ کے سفر کو وسطی امریکا کو مکمل طور پر پیدل ہی عبور کرنے کے لیے ایک محفوظ آپشن کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔
ویسے عام طور پر لوگ سیاح بن کر قانونی طور پرکولمبیا پہنچتے ہیں اور انہیں بحیرہ کیریبین میں ایک الگ تھلگ جزیرہ نما ایک جگہ ’سان اینڈریس‘ لے جایا جاتا ہے۔ اگرچہ سان اینڈریس کولمبیا کا حصہ ہے، لیکن یہ جغرافیائی طور پر نکاراگوا سے قریب ہے، جس کا مشرقی ساحل صرف 110 کلومیٹر دور ہے۔
انسانی اسمگلروں اور ان کے کلائنٹ عام طور پر کھلے سمندر میں جانے کے لیے ماہی گیری کی ابتدائی کشتیوں کا استعمال کرتے ہوئے راتوں رات اس فاصلے کو عبور کرتے ہیں۔
کولمبیا کے حکام نے کم از کم 5 وی آئی پی راستوں کی نشاندہی کی ہے، جو سان اینڈریس سے روانہ ہوتے ہیں، جن میں ساحلی قصبوں بلیو فیلڈز اور نکاراگوا میں پنٹا ڈی پرلاس جیسی منزلیں ہیں۔
اگرچہ تارکین وطن اور پناہ کے متلاشیوں کو اب بھی نکاراگوا سے امریکا-میکسیکو کی سرحد تک پہنچنے کے لیے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے، لیکن ’وی آئی پی‘ روٹ کا ایک قابل ذکر فائدہ ہے، یہ ایک بدنام زمانہ خطرناک خطے سے بچتا ہے، جسے ڈارئین گیپ کہا جاتا ہے۔
کولمبیا کو وسطی امریکا سے جوڑنے والے گھنے جنگل کا ایک حصہ، ڈیرین گیپ ہے، اس کے پاس کوئی باقاعدہ سڑکیں نہیں ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی اس کےعلاقے میں پیدل سفر کرتے ہیں۔ ڈارئین گیپ میں مسافروں کو نہ صرف پہاڑوں اور دریاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ انہیں علاقے پر قابض مسلح گروہوں سے بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
کولمبیا کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ 2022 میں کم از کم 59 پناہ کے متلاشی کیریبین عبور کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے، 12 دن بعد کولمبیا کی بحریہ نے اعلان کیا کہ حکام کو کوسٹا ریکا میں ماہی گیری کی کشتی کی تفصیل سے مماثل ملبہ ملا ہے، جس میں متاثرین کی ذاتی اشیاء اور دستاویزات قریب ہی بکھرے ہوئے ہیں۔
ایک پریس ریلیز میں کولمبیا کی بحریہ کے ایک اہلکار کیپٹن اوکٹاویو گوٹیریز ہیریرا نے کہا کہ ممکنہ طور پر یہ سفر کم سے کم حفاظتی حالات کے بغیر کیا گیا تھا۔
اس کےعلاوہ 2022 میں کولمبیا کی بحریہ نے کہا کہ اس نے کیریبین (اس مقام پر متعدد جزیرے ہیں) سے کُل711 تارکین وطن اور پناہ کے متلاشیوں کو حراست میں لیا، جب وہ نکاراگوا جاتے تھے۔ اس سال اب تک 216 تارکین وطن کو روکا جا چکا ہے۔ ان میں سے اکثریت 160 وینزویلا کے تھے۔
سان اینڈریس کوسٹ گارڈ کے کپٹین کوروناڈو نے کہا کہ چھوٹے جزیرے اکثر اسمگلروں کے لیے ”جمع کرنے کے مقامات“ کے طور پر کام کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے گاہکوں کو ایک کشتی سے دوسری کشتی میں منتقل کر سکتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات وہ مہاجرین کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں۔
سان اینڈریس کوسٹ گارڈ کے کپٹین کوروناڈو نے کہا کہ چھوٹے جزیرے اکثر اسمگلروں کے لیے ”جمع کرنے کے مقامات“ کے طور پر کام کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے گاہکوں کو ایک کشتی سے دوسری کشتی میں منتقل کر سکتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات وہ مہاجرین کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں۔
’وی آئی پی‘ روٹ کے پیچھے اسمگلنگ کرنے والی تنظیمیں اپنے کام کو چھپانے کی کوششیں بھی کرتی ہیں۔ وہ اکثر خود کو ٹریول ایجنسیوں کے طور پر برانڈ کرتے ہیں۔
کولمبیا کے انسپکٹر جنرل کے دفتر میں انسانی حقوق کے لیے ڈپٹی اٹارنی جیویر سرمینٹو نے کہا کہ یہ سیاحت کے بھیس میں غیر قانونی کارروائیاں ہیں، اس لیے کوئی بھی ان پر توجہ نہیں دیتا۔
کیپٹن کوروناڈو کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ مسئلہ مزید بڑھے گا، میں نہیں جانتا کہ کیا تبدیلی آئے گی، لیکن لوگ ہجرت کرتے رہیں گے۔ انہیں ایسا کرنے کا حق ہے، بدقسمتی سے امریکا جانے کے خواب کے اثرات ہیں۔

Views= (496)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین