10 دن کی مہلت عنایت کردیں، ہم خوشخبری دیں گے

پاکستان کے صوبہ پنجاب نے انسپکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ وہ جلد عمران ریاض کی بازیابی سے متعلق خوشخبری دیں گے تاہم اس کے لیے انہیں مزید وقت درکار ہے۔
آئی پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں عمران ریاض کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد امیر بھٹی نے صحافی عمران ریاض کے والد محمد ریاض کی درخواست پر سماعت کا آغاز کیا۔
آئی جی پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران ریاض کی بازیابی کے حوالے سے ان کے پاس مثبت معلومات ہیں، آئندہ 10 سے 15 دنوں میں خوشخبری دیں گے، عدالت انہیں مہلت فراہم کرے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ مزید مہلت مانگی جا رہی ہے، کوئی پیش رفت بھی ہونی چاہیے۔
آئی جی پنجاب نے کہا ’چلیں ہمیں 10 دن کی مہلت عنایت کردیں، ہم خوشخبری دیں گے۔‘
اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں آئی جی پنجاب ایک گھنٹہ ملاقات کا وقت دیں۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی بدھ کی شام 5 بجے عمران ریاض کے والد اور لیگل ٹیم سے ملاقات کریں۔
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے عمران ریاض کی بازیابی کیس میں پولیس کو 13 دن کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
خیال رہے کہ عمران ریاض 9 مئی کے واقعات کے بعد سیالکوٹ ایئرپورٹ سے بیرون ملک روانہ ہو رہے تھے تاہم انہیں ایئر پورٹ پر روک لیا گیا۔
اس دوران سیالکوٹ پولیس نے انہیں گرفتار کیا اور جیل میں نقص امن کا باعث بننے کے الزام میں قید کر دیا۔ بعد ازاں پولیس کے مطابق انہیں جیل سے ایک روز بعد ہی رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم وہ آج تک منظر عام پر نہیں آ سکے۔ ان کی تلاش اور بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست زیر سماعت ہے۔

Views= (438)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین