بھارت کے وہ کمزور ڈیم جو پاکستان کیلئے خطرہ بن گئے ہیں

پاکستان کے صوبے پنجاب کے کئی علاقوں میں سیلابی صورت حال ہے جس میں ایک طرف مون سون کی بارشوں نے اپنا کردار ادار کیا ہے تو وہیں بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا پانی مسلسل تباہی مچا رہا ہے۔ رواں سال بھارت کی ریاست ہماچل پردیش میں واقع بھاکڑا اور پونگ دونوں ڈیموں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس خطے میں مون سون عموماً یکم جون سے 30 ستمبر تک ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک جاری رہتا ہے۔ بھاکڑا بیاس مینجمنٹ بورڈ (BBMB) سے حاصل کردہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ڈیموں میں اس سال اگست کے دوران پانی کی سطح ماضی میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطحوں میں سے ہے۔ بی بی ایم بی کے مطابق، 1974 میں بنائے گئے پونگ ڈیم میں پانی کے ذخیرے کی زیادہ سے زیادہ گنجائشی سطح 1,421 فٹ ہے۔ تاہم، اس سال 15 اگست کو پانی کی یہ سطح 1,399.65 فٹ تک پہنچ گئی، جو کہ 1,390 فٹ کے حفاظتی نشان سے اوپر ہے۔ اس سے پہلے پونگ نے اگست میں کبھی بھی ایسی سطح کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف، بھاکڑا ڈیم جو 22 اکتوبر 1963 کو فعال ہوا، اس میں ذخائر کی زیادہ سے زیادہ سطح 1,690 فٹ اور حفاظتی سطح 1,680 فٹ ہے۔ مون سون کے دوران پانی کے زیادہ اخراج کی وجہ سے دونوں ڈیم بڑے پیمانے پر بھارت میں سیلاب کا باعث بن سکتے ہیں، اور اسی سیلاب سے بچنے کیلئے بھارت ان ڈیموں کا پانی پاکستان کی جانب چھوڑ دیتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1960 میں طے پائے گئے سندھ طاس معاہدے کے مطابق، بھارت کو تین مشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی کے پانی کے خصوصی استعمال کا اختیار دیا گیا تھا۔ بھارت نے ان دریاؤں کی یقینی آبپاشی، بجلی کی پیداوار اور سیلاب پر قابو پانے کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ایک جامع ماسٹر پلان وضع کیا۔ اس منصوبے کی کلید بھاکڑا اور بیاس پروجیکٹس تھے، جنہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت، پنجاب میں سیراب شدہ زمین کا ایک اہم حصہ مغربی پاکستان کو دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے سے ہندوستان کے پاس آبپاشی کے محدود وسائل بچے۔ تاہم، بھاکڑا، ننگل اور بیاس پراجیکٹس نے شمالی ہندوستان کو ایک نمایاں زرعی علاقے میں تبدیل کر دیا۔ ان منصوبوں نے مسلسل نیچے کی طرف آنے والے سیلاب کو روکا ، یہاں تک کہ 2005 میں چین کی پرچو جھیل کے پھٹنے کے اثرات کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا، کیونکہ بھاکڑا ڈیم نے اضافی پانی کو بغیر کسی منفی نتائج کے نیچے کی طرف روک لیا تھا۔ پونگ ڈیم نے پانی کی زیادہ سے زیادہ سطح تین بار عبور کی ہے۔ تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ ڈیم کے پانی کی سطح کئی سالوں میں مقررہ حد سے تجاوز کرچکی ہے، بنیادی طور پر ستمبر کے دوران، جب سال کے باقی حصوں میں بجلی کی پیداوار اور آبپاشی کے لیے ڈیم کو بھرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ پونگ ڈیم کی گنجائش 1400 فٹ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے لیکن ماضی میں اس نے برسات کے موسم کے اختتام پر تین بار اس حد کو توڑا۔ بھاکڑا ڈیم کے پانی کی سطح کے اعداد و شمار کی اپنی کہانیاں ہیں۔ رواں سال اگست کے دوران ڈیم میں پانی کی سطح 14 اگست کو 1677 فٹ تک پہنچ گئی جو مقررہ حد 1680 فٹ سے صرف تین فٹ نیچے تھی۔ بھاکڑا ڈیم کے پانی کی سطح میں سب سے زیادہ اضافہ 1988 میں ریکارڈ کیا گیا تھا، جب موسم برسات کے آخری ہفتے میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے سطح 1687.55 فٹ تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آیا۔ ان دو بھارتی ڈیموں میں پانی کی گنجائش حد سے تجاوز کرنے کے باعث نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ اگر یہ ڈیم ٹوٹتے یا اوور فلو ہوتے ہیں تو ان کا پانی بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستانی پنجاب کو بھی لے ڈوبے گا۔

Views= (1025)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین