’ہم تو مر رہے ہیں تم کیوں مرنے آگئے؟‘ بٹگرام میں ریسکیو آپریشن کرنے والا نوجوان

بچہ رو رہا تھا اور بار بار بے ہوش ہو رہا تھا

ضلع بٹگرام کی تحصیل الائی کی چیئر لفٹ میں آٹھ جانیں زندگی اور موت کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ یہ آٹھ نوجوان ہوا میں ایسے معلق تھے کہ کسی بھی لمحے موت ان کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔
نیچے بہتا دریا اور آس پاس سہارے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ چیئر لفٹ کی باقی رسیاں کسی بھی وقت کٹ سکتی تھیں اور یہ آٹھ افراد لقمہ اجل بن سکتے تھے۔
پانچ سکول طالب علم، ایک ٹیچر اور ایک دکاندار اپنی موت کے منتظر تھے کہ اچانک صاحب خان نامی نوجوان ان کے پاس آکر کہتا ہے ’میں آپ سب کو بچانے آیا ہوں۔ مطمئن رہیں اور میری بات غور سے سنیں۔‘
چیئر لفٹ سے جواب آیا، ’ہم تو ویسے بھی مر رہے ہیں، آپ کیوں اس موت کے کھیل کا حصہ بن رہے ہیں؟‘
صاحب خان پھنسے ہوئے افراد کو تسلی دیتے ہیں اور ریسکیو کے عمل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹر ان آٹھ افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے فضا میں موجود تھا۔ اس دوران صاحب خان نامی نوجوان ایک کونے میں بیٹھے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔
وہ اپنے ساتھ ریسکیو کا سارا سامان رکھے ہوئے ساتھیوں کے ہمراہ کسی معجزے کے منتظر تھے۔ صاحب خان نے بارہا مقامی لوگوں سے درخواست کی کہ انہیں ایک موقع دیا جائے وہ ان افراد کو ریسکیو کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن مقامی لوگوں نے سادہ لباس اور بظاہر غیر پیشہ ورانہ لہجے کی وجہ سے انہیں نظر انداز کیا۔
’مقامی افراد کو ہم پر اعتماد نہیں تھا‘ صاحب خان نےبتایا ’میرے پاس سارا سامان موجود تھا، میری ٹیم میرے ہمراہ تھی لیکن ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کا عمل جاری تھا تو مقامی لوگوں اور والدین کا ہم پر اعتماد نہیں تھا اس لیے ہمیں اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔‘
صاحب خان کو پہلے سے معلوم تھا کہ اندھیرا ہونے والا ہے اور ہیلی کاپٹر کو ریسکیو آپریشن مکمل کرنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔
’مجھے ہیلی ریسکیو آپریشن کا اندازہ ہوگیا تھا اس لیے میں اس دوران اپنے ریسکیو آپریشن کی تیاری کرتا گیا۔ میں نے چارپائی نما ریسکیو چیئر لفٹ بنائی اور وہاں بیٹھا رہا۔ اتنے میں ہوا کا رخ تبدیل ہوگیا اور اندھیرا بھی چھا گیا۔ لیکن لوگ ہم پر بھروسہ نہیں کر پا رہے تھے۔‘
صاحب خان نے کہا کہ جب لوگ مایوس ہونے لگے تو انہوں نے ایک بار پھر مقامی لوگوں سے درخواست کی کہ انہیں ایک موقع دے دیا جائے وہ دو گھنٹوں میں تمام افراد کو ریسکیو کر لیں گے۔
’مسلسل اصرار کے بعد ہمیں اجازت ملی، میں نے اپنا ریسکیو چیئر لفٹ کیبل پر باندھ دیا اور چیئر لفٹ میں پھنسے سات افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے آگے بڑھتا گیا۔‘
ان کے بقول مغرب کی اذانیں ہو چکی تھیں اور اندھیرا چھا گیا تھا۔ ’ہر سو اندھیرا تھا، میں اپنے ریسکیو چیئر لفٹ کو لیے اندھیرے میں آگے بڑھتا گیا۔ میرا ہاتھ اب بھی دکھ رہے ہیں، میری کوشش تھی کہ مجھ سے جتنا جلدی ہو سکے میں ان افراد تک پہنچ جاؤں۔
صاحب خان نے بتایا کہ یہ ان کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا ریسکیو آپریشن نہیں تھا۔ اس سے قبل بھی وہ اپنے ساتھیوں کے ہمرا گلگت، شانگلہ، کوہستان، سکردو، بٹگرام اور دیگر علاقوں میں ریسکیو آپریشن سرانجام دے چکے تھے۔
یہ آپریشن ان کے لیے مشکل تو تھا ہی لیکن ساتھ ہی مقامی لوگوں کا اعتماد بحال کرنا بھی ایک چیلنج تھا۔
’مجھے بٹگرام میں اپنا پہلا آپریشن ہر صورت کامیاب بنانا تھا۔ کیونکہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ جب ہیلی کاپٹر کے ذریعے نہیں ہو رہا تو یہ دو تین بندے معمولی رسی اور چار پائی نما ریسکیو چیئر لفٹ سے کیا کارنامہ انجام دے دیں گے؟‘
صاحب خان کے بقول انہوں نے اپنا پہلا آپریشن پندرہ منٹوں میں مکمل کیا تھا۔
منگل کو جب صاحب خان موقع پر پہنچے تو چیئر لفٹ میں پھنسے موجود افراد کو یقین نہیں آ رہا تھا۔
وہ ان سے پوچھنے لگے ’آپ کیوں ہمارے ساتھ مرنے کے لیے یہاں آئے ہیں؟‘
صاحب خان کے مطابق ’میں نے ان کو اعتماد میں لیا۔ انہیں بتایا کہ حوصلہ رکھیں ہم سب یہاں سے نکل جائیں گے۔ میں ایک ایک فرد کو یہاں سے نکال لوں گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کامیابی عطا کریں گے۔‘
صاحب خان جب پی اپنی کامیابی کی داستان سنا رہے تھے تو ان کی آواز میں فخریہ لچک تھی۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’میں نے متاثرہ چیئر لفٹ سے ایک بچے کو بحفاظت اپنی ریسکیو چیئر لفٹ میں بٹھایا اور واپس روانہ ہوگیا۔ یہ بچہ رو رہا تھا اور بار بار بے ہوش ہو رہا تھا اس لیے ہم نے اسے سب سے پہلے ریسکیو کرنے کا منصوبہ بنایا۔‘
صاحب خان جب ایک بچے کو ریسکیو کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہاں موجود لوگوں کو بھی ان پر یقین آگیا اور ان کا ساتھ دینے لگے۔
’لوگ نعرہ بازی کر رہے تھے جس کی بدولت ہمیں بھی تسلی ہوئی کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں۔‘
دوسری بار جب صاحب خان اور ان کی ٹیم چیئر لفٹ تک پہنچی تو انہوں نے مزید تین بچوں کو ریسکیو کر لیا اور اس کے بعد سکول ٹیچر اور دیگر افراد کو ریسکیو کیا گیا
’آپریشن کی کامیابی کے بعد جگہ جگہ لوگ ہمارے ساتھ تصویریں بنا رہے تھے اور ہمیں مبارکباد دے رہے تھے۔ یہ منظر میرے لیے نیا تو نہیں تھا لیکن مجھے خوشی اس بات کی تھی کہ ہم نے بالآخر کر دکھایا۔‘ وہاں موجود لوگوں نے صاحب خان کی ٹیم کو نقد انعام بھی دیا اور انہیں خوب سراہا۔
صاحب کا تعلق ضلع شانگلہ کی تحصیل بشام شنگ سے ہے جسے وہ اپنے باپ دادا کا ’کسب‘ بھی کہتے ہیں۔
صاحب خان ’کوکا اینڈ کمپنی‘ کے ملازم ہیں جو تقریباً پچاس سالوں سے ریسکیو کام کر رہی ہے۔
’جب میں بچہ تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں جایا کرتا تھا۔ ہماری ٹریننگ اسی طرح ہوئی ہے۔ ہمارا پورا خاندان اس کسب سے منسلک ہے۔‘
ان کے مطابق انہوں نے چند ایسے کامیاب ریسکیو آپریشن بھی کیے ہیں جو دیگر لوگوں کے لیے انجام دینا نا ممکن تھا۔
’ایک بار گلگت کے دریا میں بس ڈوب گئی تھی جس میں 21 لوگوں کی لاشیں پھنسی تھیں وہ بھی ہم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ نکالی تھیں۔‘
صاحب خان کے خیال میں یہ حالیہ آپریشن اس قدر مشکل تھا کہ کسی بھی ایک ٹیم کے لیے اسے اکیلے سرانجام انجام دینا آسان نہ ہوتا۔
’پاکستان آرمی کے اہلکار مسلسل ہمارے ساتھ مصروف تھے، انہوں نے ہمیں ضروری سامان بھی فراہم کیا، رسیاں دیں اور آخر تک موجود رہے۔ یہ ایک مشترکہ ریسکیو آپریشن تھا جس میں الخدمت، ریسکیو 1122 سمیت مقامی لوگوں نے ساتھ دیا۔‘

Views= (539)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین