بٹگرام کا بھیانک خواب ختم، چیئر لفٹ میں پھنسے تمام 8 افراد 15 گھنٹے بعد ریسکیو

خیبرپختوںخواہ کے ضلع بٹ گرام میں آلائی جھنگڑئے پاشتو کے علاقے میں کیبلز ٹوٹنے سے پھنسنے والی چئیر لفٹ سے لوگوں کو نکالنے کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ دریا کے اوپر بلندی پر پھنسی ہوئی چئیر لفٹ میں نویں جماعت کے 8 طلباء سوار تھے، جنہیں 15گھنٹوں کی مشقت کے بعد بچا لیا گیا۔
فضائی آپریشن کے دوران پاک فوج کے کمانڈوز نے چیئرلفٹ تک پہنچ کر 2 بچوں کو نکالا، جس کے بعد فضائی آپریشن معطل کرکے زمینی آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
زمینی آپریشن شروع ہونے کے بعد اندھیرے کے باوجود باقی بچوں کو بچایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تمام بچوں کو باحفاظت ریسکیو کیا جاچکا ہے۔
بٹگرام چئیر لفٹ ریسکیو آپریشن میں جن افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے اُن مٰں سے 5 کے نام یہ ہیں۔
عرفان ولد امریز، نیاز محمد ولد عمر زیب، رضوان ولد عبد القیوم، گلفراز ولد حکیم داد، شیر نواز ولد شاہ نظر، ابرار، عطاءاللہ، اسامہ
فضائی ریسکیو آپریشن میں 3 ہیلی کاپٹرز حصہ لے رہے تھے۔

کمانڈوز نے ایک ’سلنگ آپریشن‘ کیا جس میں اسکول کے دو بچوں کو کیبل کار سے محفوظ فاصلے پر منڈلاتے ہیلی کاپٹر سے جڑی رسی سے باندھ کر زمین تک پہنچایا گیا۔
موقع پر موجود مولانا کفایت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب لوگ مایوس ہورہے تھے تواس وقت ہیلی کاپٹر ڈولی کے قریب پہنچا اس میں سے ایک کمانڈو باہر نکل کر رسی کی مدد سے ڈولی تک پہنچا اور اس نے ایک بچے کو اپنے بازوؤں میں لیا اور اس کو ہیلی کاپٹر تک پہنچا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے بچے کو ڈولی سے نکالنے کے بعد دوبارہ وہ رسی سے نیچے اترا اور ایک اور بچے کو لے کر ہیلی کاپٹر میں چلا گیا۔
ایس ایس جی کمانڈوز ہیلی کاپٹر سے ہارنیس کے زریعے کیبل کار تک پہنچے اور بچوں کو نکال پر ہیلی کاپٹر سے زمین پر باحفاظت پہنچایا۔
دورانِ ریسکیو حکام نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے قریب جانے سے لفٹ ہلنا شروع ہوجاتی ہے، اوپر 30 فٹ کی بلندی پر ایک اور تار کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا۔
دو بچوں کو ریسکیو کرنے کے بعد رات اور موسم کے باعث فضائی آپریشن معطل کردیا گیا اور اس کی جگہ گراؤنڈ سے آپریشن شروع کر دیا گیا۔
پاکستان آرمی کے زمینی ریسکیو آپریشن میں ایک اور چھوٹی ڈولی کو اسی تار پر ڈال کر متاثرہ ڈولی کے قریب لایا گیا جس سے ایک ایک کر کے سب کو ریسکیو کیا جانا تھا۔
چھوٹی ڈولی سے کھانے پینے کی اشیاء بھی بھیجی گئیں۔
پاک فوج اس آپریشن کے لئے شمالی علاقہ جات سے لوکل کیبل کراسنگز ایکسپرٹ کو لے کر آئی جن کی خدمات بھی بروئے کار لائی گئیں۔
ہیلی پیڈ قائم
ڈی آئی جی ہزارہ طاہر ایوب کے مطابق پھنسےافراد کو ہیلی کاپٹر سے ادویات اور کھانا پہنچانے کے بعد جائے حادثہ کے سامنے پہاڑ پر ہیلی پیڈ قائم کیا گیا تھا۔
طاہر ایوب کے مطابق ہیلی پیڈ پر تمام ایمرجنسی سامان سے لیس گاڑی موجود رہی۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن کی کامیابی پر تمام افراد کا پہلے مکمل چیک اپ ہوگا، طبی مسائل ہوئے تو متاثرین کو اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسی دوران مفتی غلام اللہ نے چئیرلفٹ میں پھنسے گل فراز سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ خوراک کا ابھی تک کوٸی بندوبست نہیں کیا گیا۔
چئیر لفٹ کتنی اونچائی پر ہے؟
این ڈی ایم اے کے مطابق چیئرلفٹ 900 فٹ کی بلندی پر پھنسی ہوئی تھی، اور لفٹ کے اندر 2 اساتذہ اور 6 طلبہ موجود تھے۔
طلبہ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر واقع اسکول تک جا رہے تھے جن کے بیچ میں ”جھنگڑے خور“ نامی ایک ندی ہے۔ جسے پار کرنے کیلئے چئیر لفٹ بنائی گئی ہے۔
چئیرلفٹ کی اونچائی کے حوالے سے مختلف میڈیا اور سرکاری رپورٹس میں تضاد نظر آیا۔ تاہم آج ڈیجیٹل نے تکنیکی طور پر صحیح اونچائی کا پتا لگایا جو تقریباً 700 فٹ بنتی ہے۔ جس کی تصدیق آئی ایس پی آر نے بھی کی۔
حادثہ کہاں پیش آیا؟
کیبل کار کو جس مقام پر حادثہ پیش آیا وہ ضلع آلائی کا ایک دوردراز علاقہ ہے جہاں جانگری اور بٹنگی نامی دو پہاڑی دیہات کو ملانے کے لیے مقامی طور پر ایک چیئرلفٹ نصب کی گئی تھی۔

Views= (779)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین