اسرائیلی ماڈل ہوٹل کے ہتک آمیز رویے پر مصر چھوڑنے پر مجبور

اسرائیل کے سب سے کامیاب ماڈلز میں سے ایک شے زینکو کو ”ووگ“ اور ”وکٹوریہ سیکریٹ“ جیسے میگزینز کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے مصر میں پسند نہیں کیا جاتا، یہی وجہ ہے کہ انہیں امریکی گلوکار کی دعوت کے باوجود مصر سے بے دخل کردیا گیا۔
زینکو کو امریکی ریپر ٹریوس اسکاٹ اور ان کی ٹیم نے مصر میں ایک کنسرٹ میں شرکت کیلئے مدعو کیا تھا۔
حالانکہ کانسرٹ منسوخ کر دیا گیا تھا، لیکن زینکو جو مصر پہنچ چکی تھیں، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب پہنچ ہی گئی ہیں تو کیوں نہ سیاحتی مقامات کی سیر کرلیں اور اپنے قیام کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔
تاہم، ان کی مصر آمد کے تقریباً ایک دن کے اندر ہی ہوٹل مینجمنٹ کو پتا چل گیا کہ وہ اسرائیلی ہیں ٹریوس اسکاٹ کے عملے کے ساتھ نہیں تو انہیں فوراً ہوٹل سے نکل جانے کو کہا گیا۔
زینکو کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’میں بہت دباؤ میں تھی اور مجھے واقعی ذلت آمیز محسوس ہوا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’میں چار سالوں میں اسپاٹ لائٹ میں رہی ہوں، میں نے کبھی سام دشمنی محسوس نہیں کی اور نہ ہی کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کہ میں یہودی اور اسرائیلی ہوں۔ اس بار معاملہ کچھ مختلف تھا۔ میں ہوٹل سے سیدھا ائرپورٹ چلی گئی۔ وہاں واحد پرواز پیرس کے لیے تھی، حالانکہ بارسلونا میں میرا فوٹو شوٹ تھا۔‘
گزشتہ روز، یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ شے زینکو کو قاہرہ کے ہوٹل سے نکال دیا گیا تھا جو امریکی ریپر ٹریوس اسکاٹ کی ٹیم کے طور پر مصر پہنچی تھیں، ٹریوس اسکاٹ کا کا گیزا کے اہرام میں کنسرٹ کا منصوبہ تھا۔
مصر کے موسیقار سنڈیکیٹ نے شو کو ”مصر اور عرب دنیا کی معاشرتی اقدار، رسوم و رواج اور روایات سے متصادم ہونے پر“ منسوخ کردیا تھا۔
العربیہ کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی ہے کہ مصر کے چیمبر آف ہوٹل اسٹیبلشمنٹ کے ایک اہلکار نے کہا کہ وزارت سیاحت یا مصری اتھارٹی کی جانب سے کسی بھی شہری کو ہوٹلوں میں داخلے سے روکنے کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ ہوٹل کو ایسا کرنے پر سزا دی جائے گی۔

Views= (955)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین