87 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری، پارلیمنٹ پر عدلیہ کو ’بےدخل‘ کرنے کا الزام

سپریم کورٹ کی جانب سے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کا تحریری فیصلہ سامنے آگیا ہے۔ 87 صفحات پر مشتمل فیصلے کے پہلے 51 صفحات چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالحسن نے لکھے اور یہی بنیادی فیصلہ ہے۔ جب کہ باقی 29 صفحات جسٹس منیب اختر نے تحریر کیے ہیں جو اضافی نوٹ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کا سیکشن 7 عدلیہ کو بے دخل کرنے (judicial ouster) کی کلاز کی کلاسک مثال ہے۔
یاد رہے کہ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے سیکشن 7 میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کا اطلاق ملتے جلتے قانون، ضابطے، یا عدالتی نظیر کے باوجود ہر صورت ہو گا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانون کو اس طرح کی فوقیت نہیں دی جاسکتی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مذکورہ سیکشن کے الفاظ نقل کیے اور لکھا کہ ہم یہ دہرانا چاہیں گے کہ ہمارے آئینی تناظر میں قانون ساز اسمبلی قانون بناتی ہے اور عدلیہ اس کی تشریح کرتی ہے۔ کوئی بھی قانون جو آئین یا آئین کے تحت دیئے گئے بنیادی حقوق کے متصادم ہو اسے اس طرح کا تحفظ judicial ouster کی کلاز کے ذریعے نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کے اختیارات پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ایکٹ کا سیکشن 2 جس کی بنیاد پر یہ پورا قانون کھڑا ہے آئیں سے متصادم ہے، اگر سیکشن دو کو ہی خلاف آئین قرار دے دیا جائے تو ایکٹ کے باقی سیکشن برقرار نہیں رہ سکتے۔
عدالت کے مطابق سیکشن دو کے ذریعے سوموٹو فیصلوں کے خلاف اپیل کا اختیار دے کر ایک طریقے سے آئین کے آرٹیکل 188 میں ترمیم کی کوشش کی گئی۔ ’یہ ریویو کا دائرہ کار بڑھانے کے نام پر آرٹیکل 188 میں ترمیم کے مترادف ہے۔‘
عدالت نے کہاکہ سیکشن دو میں قراردیا گیا ہے کہ آرٹیکل 188 کے تحت دائر کیے گئے ریویو (نظرثانی) کو آرٹیکل 185 کے تحت دائر اپیل کے مترادف سمجھا جائے گا لیکن نظرثانی صرف نظرثانی ہوتی ہے اپیل نہیں۔ سیکشن دو سے بظاہر نظرثانی کا مقصد ہی تبدیل ہو رہا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے کے پیراگراف 45 میں کہا کہ پارلیمنٹ آرٹیکل 188 کے حوالے سے ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتی جو اس نے ریویو آف ججمنٹس ایکٹ کے ذریعے کرنے کی کوشش کی۔ سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو بڑھانے کی نام پر کی گئی یہ قانون سازی غیر آئینی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت اس بات سے آگاہ ہے کہ قوانین کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالت کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے، عدالت کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ قانون کو ائین سے ہم آہنگ کیا جا سکے ایکٹ کو ائین سے ہم آہنگ دیکھنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن عدالت نے اسے آئین سے متصادم پایا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایکٹ کو اس طرح بنایا گیا جیسے آئین میں ترمیم مقصود ہو، اگر قانون کے تحت اپیل کا حق دے دیا گیا تو مقدمے بازی کا ایک نیا سیلاب امڈ ائے گا، سائلین عدالت سے رجوع کریں گے اس بات کو سامنے رکھے بغیر کہ فیصلہ کب دیا گیا تھا، وہ مقدمات بھی کھل جائیں گے جن پر اپیل کی مدت آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت گزر چکی ہے۔
تین رکنی بینچ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں کوئی ابہام نہیں، آرٹیکل 188 اور اس پر عدالتی فیصلوں کی پابندی سب پر لازم ہے، پارلیمان کو علم ہے اپیل اور نظر ثانی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

Views= (262)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین