سپریم کورٹ میں شجرکاری مہم: چیف جسٹس اور جسٹس فائزعیسیٰ ساتھ ساتھ

گزشتہ روز وائرل ویڈیو میں چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ کی تقریب حلف برداری کے دوران ایک دوسرے سے منہ موڑنے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال اور سینیئرترین جج قاضی فائز عیسیٰ نے آج شجر کاری مہم کے تحت سپریم کورٹ کے احاطے میں ایک ساتھ پودے لگائے۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال اورجسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اس دوران آپس میں بات چیت کے علاوہ پودے لگانے کے بعد دُعا بھی کی۔
ادارے کیلئے بہتری کی دُعا کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ سب کیلئے اور ادارے کیلئے برکت کرے۔
شجرکاری مہم میں چیف جسٹس اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ اورجسٹس اطہرمن اللہ بھی شریک تھے۔
اس دوران وہاں موجود صحافیوں میں سے کسی نے چٹکلہ چھوڑا، ’یہ بہت اچھا ہے سر‘ ۔۔۔ جواب میں چیف جسٹس کی جانب سے کہا گیا کہ ’ یہ پھلے پھولے گا’۔
چیف جسٹس کےاس جواب پر صحافی نے فوراً کہا، ’یہی پھلے پھولے گا‘ ، اس پر وہاں موجود حاظرین نے قہقہے بکھیرے۔
دریں اثناء چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال سے ملاقات نہ کرنے کے معاملے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہم وضاحت جاری کردی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ویڈیو کے ذریعے تاثر دیا گیا کہ میں چیف جسٹس سے نہیں ملا جو حقیقت کے خلاف اور غلط فہمیوں کا باعث بنتی ہیں، سپریم کورٹ میں کوئی الگ گروپ نہیں بنا رکھا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نے کہا کہ گزشتہ روز جسٹس اقبال حمید الرحمان اور ان کی اہلیہ کو سلام کرنے اور مبارکباد دینے گیا، مبارکباد دینے کے دوران میری چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی، میں نے چیف جسٹس سے سلام دعا کی، جسٹس سید محمد انوار سے ملاقات کے دوران کسی نے یہ لمحہ ریکارڈ کیا، اس بات کا غلط طور پر اضافہ کیا گیا کہ میں نے چیف جسٹس کو سلام نہیں کیا، میں نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال سے بھی ملاقات کی اور ان کا حال بھی پوچھا، ویڈیو میں تاثر دیا گیا کہ میں چیف جسٹس سے نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس اقبال حمید الرحمان کی اہلیہ اپنے خاندان کے کچھ افراد سے ملوانا چاہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کی طرف متوجہ ہوا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ حقیقت کے خلاف خبریں نہ پھیلائی جائیں، یہ غلط فہمیوں کا باعث بنتی ہیں، گٹھ جوڑ کے ذریعے بنائی گئی کہانیوں کا ماضی میں اپنے خاندان سمیت شکار رہ چکا ہوں، قرآن پاک کی آیت ہے کہ خبر پھیلانے سے قبل اس کی صداقت کی تحقیق کر لیا کرو کہ کہیں تم لاعلمی میں کسی کو نقصان نا پہنچا بیٹھو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں کوئی الگ گروپ نہیں بنا رکھا، آئین کے تحفظ اور دفاع کے لیے اپنے حلف کا پابند ہوں، آئین کے خلاف کسی اقدام کی توثیق نہیں کر سکتا، حقائق مسخ کرکے متنازع بیانیہ گھڑنا ادارے کے لیے نقصان دہ ہے۔

Views= (407)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین