نظربندی کا قانون سیاست دانوں کے خلاف کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟

پاکستان میں جاری حالیہ سیاسی کشیدگی میں سب سے زیادہ جو خبر دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہے وہ ہے سیاست دانوں کی گرفتاریاں۔
اپوزیشن جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رہنما اور کارکن آج کل مختلف بندشی قوانین کی زد میں ہیں۔
یہ بندشی قوانین ہیں کیا اور یہ کیسے کام کرتے ہیں اس حوالے سے مختلف قانونی ماہرین نے اظہار خیال کیاہے۔
جس کا لُبِ لباب یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کی رٹ کی بحالی کے لیے ایسے قوانین تو موجود ہیں تاہم سیاسی مخالفین کے خلاف ان کے بے دریغ استعمال سے ان کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر انور کمال بندشی قوانین سے متعلق بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’نظر بندی کا قانون جسے پبلک مینٹیننس آرڈر (ایم پی او) 1960 کہا جاتا ہے مختلف طریقوں سے حکومت کو یہ طاقت فراہم کرتا ہے کہ وہ نقص امن پیدا کرنے والے عناصر کو کنٹرول کر سکے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس قانون میں دو شقیں ایسی ہیں جن کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ’ایک اس کا سیکشن 3 ہے اور دوسرا سیکشن 16 ہے جو سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔‘
انور کمال بندشی کے مطابق ’دونوں سیکشن ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور دونوں کے استعمال کا طریقہ کار بھی اپنا ہے۔‘
’تھری ایم پی او بنیادی طور پر ایسے افراد کے خلاف استعمال ہوتا ہے جن کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ کوئی ایسا کام کر سکتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر عوام متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے کسی بھی فرد کو حکومت تین ماہ کے لیے نظر بند کرسکتی ہے۔‘
پاکستان میں لاگو قانون کے مطابق تھری ایم پی او کے تحت نظربند کیے گئے شخص کی نظربندی میں اگر مزید توسیع درکار ہو تو ہائی کورٹ کا ریویو بورڈ جس میں ایک ہائی کورٹ کا جج اور دوسرا ایک حکومتی افسر اس شخص سے متعلق ثبوتوں کی بنیاد پر اس کی نظر بندی میں مزید تین ماہ کی توسیع کرسکتے ہیں۔
اس قانون کی دوسری شق 16 ایم پی او ہے جس میں کسی بھی شخص کی تقریر اور لکھے ہوئے مواد سے عوام میں افراتفری پیدا ہو تو ایسے شخص کو براہ راست اس قانون کے تحت گرفتار کر کے اس کو تین سال کی سزا دی جاسکتی ہے۔
بیرسٹر احمد پنسوتا کہتے ہیں کہ یہ دونوں قوانین علیحدہ علیحدہ کام کرتے ہیں، تھری ایم پی او میں پہلے جُرم کو بھانپا جاتا ہے اور پھر اسے ہونے سے روکنا شامل ہے جبکہ سیکشن 16 ایسے مواد پر لگتا ہے جو وقوع پذیر ہو چکا ہو اس لئے اس کو پینل سیکشن بھی کہا جاتا ہے۔
’یعنی حکومت کسی بھی ایسے شخص کو 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے اس کے خلاف ٹرائل کے بعد اسے تین سال کے لیے جیل بھیج سکتی ہے جس نے اپنی تقریر یا تحریر سے عوام الناس میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی ہو۔‘
سیاست دان ہی نشانہ کیوں؟
لاہور ہائی کورٹ کے سابق سیکریٹری رانا اسد اللہ خان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ یہ قوانین بنائے ہی اس لیے گئے ہیں کہ جو حکومت کو رٹ کی بحالی کے لیے فوری طاقت مہیا کرتے ہیں۔
’سیاست دانوں یا مذہبی رہنماؤں پر ان کا اطلاق اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست عوام کو مخاطب کر رہے ہوتے ہیں جب حکومت کو کوئی خطرہ محسوس ہو کہ لوگ ان کے خلاف بھڑک رہے ہیں تو ہی ایسے قانون حرکت میں آتے ہیں۔‘
رانا اسد اللہ خان کے مطابق ان دونوں سیکشنز کے خلاف تریاق ہائی کورٹ میں رٹ کی صورت میں موجود ہے۔‘
’یہ سیکشن بڑے واضح ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ حکومت جس کو چاہے نقص امن کے تحت اندر کر دے، اسے اپنے آرڈر کے ساتھ ٹھوس شواہد بھی دینا ہوتے ہیں، اگر شواہد نہ ہوں تو ہائی کورٹ آرڈر فوری ختم کر دیتی ہے۔‘
حالیہ واقعات میں حکومت کیسے اس قانون کو استعمال کر رہی ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے بیرسٹر احمد پنسوتا کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس کافی مارجن ہے۔‘
’مثلاً ایک سیاست دان کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا مطلب الزام یہ ہے کہ یہ شخص نقص امن کے لیے خطرہ بننے جا رہا ہے۔‘
بیرسٹر احمد پنسوتا کے مطابق ’اگر ٹھوس شواہد نہیں ہوں گے تو عدالت اسے چھوڑ دے گی۔ اسی شخص کو 16 ایم پی او کے تحت گرفتار ٖکر لیا جاتا ہے جو کہ دوسری شق ہے اور پہلی سے مختلف ہے۔‘
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’صرف ایسا نہیں، ہر ہائی کورٹ کی اپنی حدود ہے جیسے شیریں مزاری کے کیس میں ہوا۔‘
’اسلام آباد ہائی کورٹ کی حدود میں شیریں مزاری کے نظربندی کے آرڈر ختم ہوئے تو پنجاب پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا، اسی طرح یہ بات دوسرے صوبوں تک بھی جاسکتی تھی۔‘
ان حالیہ نظر بندیوں پر لاہور ہائی کورٹ نے وزیرآباد کے ایک رہائشی کی درخواست پر ایک دلچسپ آرڈر دیا ہے جس میں نہ صرف اسے رہا کیا گیا بلکہ حکومت نے جتنے دن نظر بند رکھا فی دن کے حساب سے اسے پانچ ہزار روپے ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔
تحریک انصاف کے مقامی رہنما ابوبکر صدیق بھٹہ کو ضلعی حکومت نے ایس ایچ او کی رپورٹ پر 90 دن کے لیے نظربند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جس میں ایس ایچ او نے کسی مواد کے بغیر محض خیال پر مبنی اپنی رپورٹ لف کی تھی۔

Views= (578)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین