گیس کی قلت اور مہنگائی کا متبادل ”شمسی چولہے“

یہ چولہے پاکستان کےکسی بھی علاقے میں استعمال کئے جاسکتے ہیں

دنیا بھر میں مسلسل کاٹے جارہے جنگلات اور کم ہوتے گیس کے ذخائر کے باعث ایندھن کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کیلئے اٹھایا گیا قدم اب دوڑ کی شکل اختیار کرگیا ہے۔
ایسی صورت میں دنیا کے دور دراز وہ علاقے جہاں ایندھن کی قلت ہے اور انسانی آبادی کی پہنچ سے بھی دور ہیں، وہاں سورج کی شعاؤں سے مدد لی جاتی ہے۔
پھر چاہے وہ بجلی بنانا ہو یا کھانا پکانا، سورج کی یہ بظاہر معمولی کرنیں اب بڑے بڑے پروجیکٹس کا ایندھن بن رہی ہیں۔
اب انہی کرنوں کا استعمال کرتے ہوئے افغانستان اور افریقی ممالک میں شمسی توانائی سے چلنے والے ”شمسی چولہے“ متعارف کرائے گئے ہیں، جو صارف کو لکڑی، تیل اور گیس کی ضرورت سے ماورا بناتے ہیں۔
ان چولہوں یا کُکرز میں سورج کی روشنی کو ایک مرکزی نقطہ پر مرکوز کرنے کے لیے آئینے کا استعمال کیا جاتا ہے، جب کھانا پکانے کی بات آتی ہے تو یہ توانائی کی ایک انتہائی سستی شکل ہے۔
آپ کے دماغ میں یہ خیال ضرور آیا ہوگا کہ اس طرح کھانا بنانے کا عمل انتہائی سست ہوجائے گا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ کُکرز بالکل اسی طرح کھانا بناتے ہیں جس طرح آگ والے چولہوں پر بنتا ہے۔
لکڑی جلائے جانے پر دھواں خارج کرتی ہے، لیکن جب سولر ککر استعمال کیا جائے تو اس مضر صحت دھوئیں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جو سانس کے ساتھ اندر جاتا ہے اور بعض اوقات کینسر جیسے موذی مرض کا باعث بن جاتا ہے۔
افغانستان اور بعض افریقی ممالک میں ان چولہوں کا استعمال جاری ہے، اور یہ پاکستان کے ریگستانی یا دیہی میں بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔
ان چولہوں کی تیاری کا آئیڈیا اتنا زبردست تھا کہ اب یہ کمرشل سطح پر تیار کئے جاتے ہیں، اور پاکستان میں ان کے متوقع گاہکوں کی ایک بڑی تعداد ہوسکتی ہے۔

Views= (720)

Join on Whatsapp 1 2

تازہ ترین