مری میں داخلے کیلئے مشروط اجازت ،سانحہ مری کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل

مری میں 23 افراد کی ہلاکت کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ملکہ کوہسار میں داخلے کے لیے مشروط اجازت دیدی۔
کمشنر راولپنڈی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مری میں روزانہ 8 ہزار گاڑیوں کی اجازت دے دی گئی، 17 جنوری تک مری سیاحوں کے لئے بند رہے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق داخلی گاڑیوں پر پابندی مری اور آزادکشمیر کے رہائشیوں پر لاگو نہیں ہو گی، چیف ٹریفک آفیسر مری ٹریفک پلان ترتیب دیں گے، حد سے زائد گاڑیوں کو روکنے کی ذمہ داری بھی چیف ٹریفک آفیسر کی ہو گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق شام 5 بجے سے صبح 5 بجے کے درمیان مری میں سیاحوں کا داخلہ نہیں ہوسکے گا، ایکسین چیف ٹریفک آفیسر محکمہ موسمیات سے مکمل رابطے میں رہیں گے، چیف ٹریفک آفیسر، سٹی پولیس آفیسر مناسب نفری تعینات کرنے کے پابند ہونگے۔
سانحہ مری کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں
جس کے مطابق طوفان کے دوران برف ہٹانے والی 20 گاڑیاں ایک ہی مقام پر کھڑی تھیں، ڈرائیور موجود تھے نہ ہی دیگر عملہ جبکہ محکمہ جنگلات کے حکام کمیٹی کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔
سانحہ مری کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں ، تحقیقاتی کمیٹی نے پنجاب ہاؤس مری میں آپریشنل عملے اور برفانی طوفان کے دوران مدد کیلئے موصول ہونے والی کالز کے بارے میں ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے ۔
برف ہٹانے والی گاڑیوں سے متعلق ہائی وے مکینیکل ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ 29 گاڑیوں میں سے 20 گاڑیاں ایک ہی مقام پر ایک نجی بینک میں کھڑی رہیں جبکہ ڈرائیوز اور عملہ ڈیوٹی پر موجود نہ تھا۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کا راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں دفتر موجود نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔
محکمہ جنگلات کے حکام یومیہ اجرت اور سڑکوں پر گرے درخت ہٹانے والے مزدوروں کے بارے میں سوالا ت کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے جس پر کمیٹی نے عملے کی تفصیلات اور ذمہ داریوں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔
کمیٹی کو بتایاگیا کہ مری میں شدید برفباری کی وارننگ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے جاری کی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ نے مری کے داخلی راستوں سے تقریباً 50 ہزار گاڑیاں واپس بھیجیں۔
یاد رہے کہ مری میں شدید برف باری کے بعد کئی گھنٹوں تک ٹریفک میں پھنسے رہنے والی گاڑیوں میں بچوں اور خواتین سمیت 23 اموات ہوئی تھیں۔ ان اموات کے بعد پنجاب حکومت نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لے کر تجاویز حکومت کو دے گی۔ انکوائری کمیٹی کو سات دن میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مری میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کے لیے ایک کروڑ 76 لاکھ روپے مالی امداد کااعلان بھی کیا تھا اور مری کو ضلع بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ مری میں فوری طور پر ایس پی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے عہدوں کے افسروں کو تعینات کیا جائے گا۔

Views= (88)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین