زیادتی کی شکار 6 سالہ بچی کا بیان قابلِ تسلیم گواہی قرار

لاہورہائیکورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کے بیان کو بھی قابل تسلیم گواہی قرار دیتے ہوئے تحریری فیصلے میں کہا ہےکہ جنسی زیادتی سے متاثرہ 6 سالہ بچی کے بیان کی کڑیاں شواہد کیساتھ وقوعہ ثابت کرتی ہیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ریپ متاثرہ کمسن بچی کے بیان کو تسلیم کرنے کے اصول پر عمل کرنے کا بہترین وقت ہے۔
جسٹس امجد رفیق نے مجرم کامران کی عمر قید کی اپیل خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت نے شریک ملزم برکت علی کی بریت کیخلاف اپیل بھی خارج کردی۔
لاہور ہائیکورٹ نےکہا ہے کہ 6 سالہ معصوم گڑیا کواسکول جانے کے ایک ماہ بعد درندے نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ شیطان صفت کامران نے 6 سالہ بچی کو ایف جی اسکول گوجرانوالہ کینٹ کے بیت الخلا میں زیادتی کا نشانہ بنایا۔
عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ 6 سالہ متاثرہ بچی نے عدالت میں سارا وقوعہ بلند حوصلےاورمضبوط الفاظ میں قلمبند کروایا۔ متاثرہ بچی کا بیان مدعی، شواہد کیساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
عدالت فیصلے کے مطابق ٹرائل عدالت نے 6 سالہ متاثرہ بچی کے بیان کو تسلیم شدہ قرار دے کر درست فیصلہ کیا۔ ریپ متاثرہ کمسن بچی کے بیان کو تسلیم کرنے کے اصول پرعمل کرنے کا بہترین وقت ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق ریپ سے متاثرہ فرد کا بیان زخمی فرد سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مجرم کوسزا دلوانے کیلئے ریپ متاثرہ کا محض بیان ہی کافی ہے۔ مجرم کا وقوعہ کا مقدمہ تاخیر سے درج کروانے کا اعتراض ناقابل تسلیم ہے۔
عدالت فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ متاثرہ بچی کے والدین نے مقدمے کے نتائج پرغوروخوص کرنے کے بعد ہی بچی کا میڈیکل کروایا۔ ڈاکٹرز نے بھی 6 سالہ بچی کیساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق کی۔ پراسکیوشن نے بلا شک و شبہ مجرم کیخلاف اپنا کیس ثابت کیا۔
گوجرانوالہ کینٹ پولیس نے2017 میں کامران اور برکت علی کیخلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کیا تھا۔

Views= (26)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین