تھرکول منصوبہ، 145 میٹر کھدائی کے بعد کوئلہ نکل آیا، پاکستانی انتظامیہ اور چینی ماہرین کا جشن

پاک چین اقتصاداری راہداری (سی پیک) میں شامل تھرکول منصوبے کے بلاک ’ون‘ کی انتظامیہ نے اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے 145میٹر کھدائی مکمل کی اور کوئلہ نکل آیا۔ جس پر پاکستانی انتظامیہ اور چینی ماہرین نے جشن منایا۔ڈپٹی سی ای اوسائنو سندھ ریسورسز کمپنی کے مطابق کوئلےکی سالانہ پیدوار پہلےمرحلے میں9 ارب ٹن ہوگی۔
بلاک ون کے ماہرین کا کہنا تھا کہ بلاک ون پاکستان کی سب سے بڑی کوئلے کی کان ہے، جس میں 3 ارب ٹن یا 5 ارب بیرل خام تیل کے مساوی ذخائر ہیں۔تھرکول انتظامیہ نے کہا کہ اس منصوبے کی سالانہ پیداوار صرف پہلے مرحلے میں 78 لاکھ ٹن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاک ون کی سی پیک کے تحت ایک ارلی ہارویسٹ پروجیکٹ (ای ایچ پی) کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔
انتظامیہ نے بتایا کہ یہ منصوبہ چین کے تاریخی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا ایک اہم منصوبہ اور بلاک ون ڈاؤن سندھ کمپنی کی ملکیت ہے اور منصوبے کے زیادہ تر شیئر ہولڈر شنگھائی الیکٹرک گروپ سے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تھر کا کوئلہ بجلی پیدا کرنے میں جلد استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے 1330 میگاواٹ بجلی گھر بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اس حوالے سے جاری اپنے بیان میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ کہا تھر بدلے گا پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کانعرہ حقیقت کا روپ لیتا جارہا ہے۔
مراد علی شاہ نے تھر کول فیلڈ بلاک ون سے کوئلہ برآمد ہونے پر پورے ملک کے عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق سندھ حکومت نے دوسری بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تھر کول فیلڈ بلاک ون میں تین ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں جو 5 ارب بیرل خام تیل کے برابر ہیں جو پاکستان کو اندھیروں سے اجالے میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔

Views= (88)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین