تحریک انصاف کو کشمیر ہائی وے سے ملحقہ H9گراؤنڈ میں احتجاج کی اجازت

پی ٹی آئی حکومت میں جے یوآئی کے جلسے کے لیے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد کیا جائے

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو کشمیر ہائی وے سے ملحق گراؤنڈ میں احتجاج کی اجازت دے دی ہے۔عدالت نے حکومت کو تحریک انصاف کو احتجاج کے لیے سکیورٹی دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو رکاوٹیں ہٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔سپریم کورٹ نے تمام گرفتار رہنماؤں، کارکنان اور وکلاء کو فوری رہا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ آج کے جلسے کے لیے پی ٹی آئی حکومت میں جے یوآئی کے جلسے کے لیے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد کیا جائے۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے ملک کی سیاسی صورتحال اور راستوں سے بندش سے ہٹانے کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کی جانب سے راستوں کو کھولنے، سری نگر ہائی وے پر احتجاج کی اجازت دینے اور بغیر ایف آئی آر پکڑے گئے کارکنان کی رہائی بارے میں حکومت سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔
سپریم کورٹ میں لانگ مارچ کے دوران راستوں کی بندش اور گرفتاریوں سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔
دوسرے وفقے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے عدالت سے کہا کہ میں نے عمران خان سے ہدایات لی ہیں اور انھوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کریں گے اور پر امن احتجاج کریں گے جس سے عام شہریوں کی زندگی متاثرنہیں ہوگی۔
انھوں نے عدالت سے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ عدالت حکومت کو سری نگر ہائی وے پر دھرنا دینے، بغیر ایف آئی آر گرفتار کیے گئے کارکنان کو رہا کرنے اور راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے۔ عمران خان نے بابر اعوان، عامر کیانی، علی نواز اعوان اور فیصل چوہدری پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو حکومت سے بات چیت کرے گی۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ بابر اعوان کے نکات پر وزیر اعظم سے ہدایات لے کر بتائیں۔ اس دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی سے پوچھا جائے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کرے گی؟ اس پر بابر اعوان نے کہا کہ ہمارا اعلان ہے کہ نئے انتخابات کے اعلان تک دھرنا دیں گے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ بھی ہدایات لے کر آئیں ہم اپنے حکم نامے میں ٹائم فریم کے حوالے سے دیکھیں گے۔
عدالت نے سماعت میں وفقہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک گھنٹے بعد دوبارہ سماعت کریں گے۔
وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ بنیادی طور پر حکومت کاروبار زندگی ہی بند کرنا چاہ رہی ہے۔
جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ خونی مارچ کی دھمکی دی گئی ہے، بنیادی طور پر راستوں کی بندش کے خلاف ہوں، عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں، راستوں کی بندش کو سیاق و سباق کے مطابق دیکھا جائے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں بھی احتجاج کے لیے جگہ مختص کی گئی تھی۔
اس موقع پر صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ پولیس وکلا کو بھی گھروں میں گھس کر گرفتار کر رہی ہے۔ سابق جج ناصرہ جاوید کے گھر بھی رات گئے پولیس نے چھاپہ مارا، مظاہرین اور حکومت دونوں ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار کسی کو نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسلح افراد کو احتجاج کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟
جس پر صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے کہا کہ ابھی تو احتجاج شروع ہی نہیں ہوا تو مسلح افراد کہاں سے آ گئے؟ مولانا فضل الرحمان دو مرتبہ سرینگر ہائی وے پر دھرنا دے چکے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن کے استفسار پراٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک انصاف نے سری نگر ہائی وے پر دھرنے کی اجازت مانگی۔ سکیورٹی صورتحال کے باعث سری نگر ہائی وے پر اجازت نہیں دی گئی، سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔

’سکیورٹی اداروں نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر خود کش حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، سپریم کورٹ نے تحریک انصاف اور ضلعی انتظامیہ کو متبادل جگہ کے تعین کی ہدایت کر دی۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے، حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان پر خودکش حملے کا خطرہ ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ اصل ایشو سے دور جا رہے ہیں، کیا پولیس چھاپے مار کر لیڈرز اور کارکنوں کو حفاظتی تحویل میں لے رہی ہے؟ راتوں کو گھروں میں چھاپے مارنے میں کیا مزا آتا ہے؟ حکومت کو سرینگر ہائی وے کا مسئلہ ہے تو لاہور سرگودھا اور باقی ملک کیوں بند ہے؟
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا سیاسی قیادت کو خطرہ صرف سرینگر ہائی وے پر ہی ہے؟ جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ سیکرٹری داخلہ صاحب جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری لیتے ہیں؟ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر صوبوں کا کام ہے، جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے پوچھا کہ کیا وزارت داخلہ صرف ڈاکخانے کا کام کرتی ہے؟
اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا وزارت داخلہ نے کوئی پالیسی ہدایات جاری کی ہیں؟ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ وزارت داخلہ نے صوبوں کو کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا۔

Views= (835)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین