بجلی کی قیمت میں اضافہ، پٹرول مہنگا ہونے کو تیار، درآمدی بجٹ بھی منظور ہوگیا

سانحہ مری میں جو کچھ ہوا کوئی نئی چیز نہیں تھی!

ماشاء اللہ، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیرٹی اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 4 روپے 30 پیسے کا اضافہ کر دیا ہے اور حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے کیلئے بھی اڑان بھرنے کوتیار ہے۔
آئل مارکیٹنگ ذرائع کا کہناہےکہ 16 جنوری سے پیٹرولیم قیمتیں 6 روپے لیٹر تک بڑھنے کا امکان ہے جس میں پیٹرول 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 6 روپے فی لیٹر تک جانے کا تخمینہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ ٹیکس کی شرح، درآمدی برابری کی قیمت اور شرح تبادلہ کی بنیاد پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 5 روپے 30 پیسے اور 5 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
اب تو خیر سے منی بجٹ جسے اپوزیشن میگا بجٹ کا نام دیتی ہے قومی اسمبلی سے منظوری حاصل کر چکا ہے
اس بل کے تحت 500 روپے سے زیادہ مالیت کے فارمولا دودھ پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) لگے گا۔
اس کے علاوہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھا دیا گیا، درآمدی گاڑیوں پر تجویز کردہ 5 فیصد کے بجائے 12.5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
مقامی طور پر تیار کردہ 1300 سی سی کی گاڑی پر ڈھائی فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی، 1301 سے 2000 سی سی کی مقامی گاڑی پر 10 کے بجائے 5 فیصد ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ 2001 سی سی سے اوپر کی مقامی گاڑی پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی۔
تاہم لال مرچ اور آئیوڈین ملے نمک پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیاء، بیکری کی اشیاء، لیپ ٹاپ، سولر پینلز اور بعض دیگر اشیاء پر ٹیکس چھوٹ کو برقرار رکھا گیا ہے۔
ترمیم کا لب لباب یہی نظر آتا ہے کہ صرف درآمدی اشیاء مہنگی ہونگی جس کا لا محالہ اثر مقامی اشیاء پرضرور پڑے گا۔
ایک سادہ سی مثال سامنے رکھیئے۔
مقامی دودھ کیوں مہنگا ہو گیا وجہ یہ بتائی گئی کہ فیڈ مہنگی ہو گئی کیونکہ فیڈمیں شامل کوئی ایک معمولی سا جز درآمدی گیٹیگری میں آتا ہے ۔ چارے پر اٹھنے والے اخراجات بڑھ گئے ہیں کیونکہْ درآمدیٗ کھاد ڈالی گئی ہے۔ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھ گئے ہیں کیونکہ درآمدی پٹرول مہنگا ہو گیا ہے۔
غرض کسی بھی اشیاء خورد ونوش کی خریداری کی جسارت کرکے دیکھ لیں مہنگائی کا تڑکا لگا ملے گا وجہ وہی عالمی سطح پر نادیدہ مہنگائی۔
اب تو حالات یہ ہو گئے ہیں کہ کسی چیز کے مہنگے ہونے کا دکھ ظاہر کریں تو اس کی قیمت مزید بڑھنے کی نوید سنا دی جاتی ہے۔
منافع خوری تو ہم میں ازل سے ٹھاٹھیں مار رہی ہے۔ 2 روپے کی چیز 5 روپے میں فروخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کامیابی مل جائے تو 7 روپے ریٹ لگانے کی تمنا انگڑائیاں لینے لگتی ہے۔
حالیہ سانحہ مری میں جو کچھ ہوا کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ مری کی سڑکیں کیوں مرمت نہیں ہوئیں؟ وجہ پنجاب کی کون سی سی سڑک مرمت ہوئی علم میں ہو تو بتا دیں؟ جدھر جائیں گے ٹوٹ پھوٹ سے واسطہ پڑے گا۔
سرکاری مشنری بشمول افسران و ملازمین نے اپنے فرائض سے کیوں غفلت برتی؟پنجاب کے کس علاقہ کی سرکاری مشنری تند دہی سے فرائض منصبی ادا کر رہی ہے علم میں ہو تو بتا دیں؟
مری والوں نے سیاحوں کی جیبوں پر ڈاکہ مارا پنجاب کے کون سے تاجر یا دکاندار ہیں جو مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ابھی رمضان المبارک آئے گا تو خود دیکھ لینا۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی جارہی ہے کہ
مری والوں کو برا کہنے والے یاد رکھیں رمضان آتے ہی سارا ملک مری بن جاتا ہے۔ یہ ہماری اجتماعی نفسیات ہے۔

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین