حکومت کا عثمان مرزا کیس کی پیروی کا اعلان ’فرانزک شواہد موجود ہیں‘

وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں ایک لڑکے اور لڑکی کو ہراساں کرنے کے پر مبنی عثمان مرزا کیس کی پیروی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ منگل کو کیس کی سماعت کے موقع پر متاثرین کی جانب سے ملزموں کو پہچاننے سے انکار کیا گیا تھا۔
حکمران جماعت پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیکریٹری ملیکہ بخاری نے بدھ کے روز ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ عثمان کیس کے حوالے سے وزارت قانون میں اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔​
انہوں نے لکھا کہ ’ریاست عثمان مرزا کے کیس کی پیروی کرے گی قطع نظر اس امر کہ جو حال ہی میں متاثرین کی جانب سے موقف سامنے آیا ہے۔ ناقابل تردید ویڈیو اور فرانزک شواہد ریکارڈ پر موجود ہیں.
ملیکہ بخاری نے مزید لکھا کہ ’خاتون کو ہراساں کرنے پر کسی بھی شخص کو قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا ہو گا۔‘
منگل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں متاثرہ لڑکی اور لڑکے نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’پولیس نے یہ سارا معاملہ خود بنایا ہے، میں نے کسی بھی سٹامپ پیپر پر دستخط نہیں کیے۔ ‘
متاثرہ لڑکی نے ملزمان کو پہچاننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کسی بھی ملزم کی نہ شناخت کی اور نہ ہی کسی پیپر پر دستخط کیے، پولیس والے مختلف اوقات میں سادہ کاغذوں پر میرے سے دستخط اور انگوٹھے لگواتے رہے۔‘
متاثرہ لڑکی نے عدالت میں کہا کہ ’میں کسی ملزمان کو نہیں جانتی نہ ہی کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہوں۔ متاثرہ لڑکی نے عدالت سے استدعا کی میں اس کیس میں مزید پیش نہیں ہونا چاہتی جس پر جج نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پیش تو ہونا پڑے گا۔‘
متاثرہ لڑکی نے موبائل فوٹیج بنانے کے الزام میں گرفتار ملزم ریحان کو بھی پہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔
لڑکی نے بیان دیا کہ ’میں نے کسی کو بھی تاوان کی رقم ادا نہیں کی، ریحان سمیت کسی بھی ملزم نے زیادتی کی کوشش نہیں کی، میں ریحان کو نہیں جانتی۔ پولیس نے تھانے میں ریحان سمیت دیگر ملزمان کو مجھے دکھایا تھا۔ ‘

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین