مٹیاری موٹروے فراڈ کیس: اے سی ہاؤس سعید آباد سے کروڑوں روپے نکل آئے

مٹیاری موٹروے فراڈ کیس میں اسسٹنٹ کمشنر ہاؤس سعید آباد سے 42 کروڑ روپے برآمد کرلیے گئے۔
اینٹی کرپشن سندھ نے ملزم سابق ڈپٹی کمشنر عدنان رشید کی نشاندہی پر اسسٹنٹ کمشنر ہاؤس سعید آباد میں کارروائی کی جہاں سے 42 کروڑ روپے کی رقم برآمد کی گئی۔
دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنرسعید آباد منصورعباسی کو ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ ہونے پرگرفتار کرلیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی موٹر وے تعمیر پراجیکٹ کا لینڈ ایکوزیشن افسربھی ہے۔
واضح رہےکہ موٹر وے پراجیکٹ میں مٹیاری ضلع میں تاحال 2 ارب 17 کروڑ کے غبن کا تعین ہوا ہے اور ڈپٹی کمشنرمٹیاری عدنان رشید کیس میں پہلے ہی گرفتار ہیں۔
دوسری جانب محکمہ اینٹی کرپشن کے مطابق گرفتار ڈپٹی کمشنر عدنان رشید اپنے حصے کی رقم دینے کو تیار ہوگئے۔محکمہ اینٹی کرپشن کے مطابق عدنان رشید رقم واپسی کے بدلے رہائی مانگ رہے ہیں، عدنان رشید پہلے پیسے واپس کریں، پھر قانون کے مطابق اس کی مدد کریں گے۔اینٹی کرپشن نے 83 کاشتکاروں کو ملنے والے 55 کروڑ روپے کا بھی سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔محکمہ اینٹی کرپشن کے مطابق زمینداروں کو 55 کروڑ روپے کی ادائیگی پر دستخط کروائے گئے۔
40فیصد کٹوتی کی گئی۔قبل ازیں سکھر حیدرآباد موٹروے منصوبے میں پونے دو ارب روپے کی مبینہ کرپشن میں معطل ڈپٹی کمشنر مٹیاری عدنان رشید کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق ڈپٹی کمشنر مٹیاری عدنان رشید کو ان کے گھر سے گرفتار کر کے حیدرآباد منتقل کر دیا گیا ۔ چند گھنٹے قبل چیف سیکرٹری سندھ نے کرپشن کے الزام میں ڈپٹی کمشنر مٹیاری عدنان رشید کو عہدے سے فارغ اور اسسٹنٹ کمشنر نیو سعید آباد منصورعباسی کو معطل کردیا تھا
رپورٹس کے مطابق لینڈ ایکوزیشن آفیسر منصور عباسی موقع سے فرار ہوگئے ہیں۔گزشتہ روز سکھر حیدرآباد موٹر وے منصوبے کی رقم میں پونے 2 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا۔
دستاویزات کے مطابق زمین کی خریداری کے لیے این ایچ اے نے سال 2020 میں 4 ارب 9 کروڑ روپے جاری کیے، سابق ڈپٹی کمشنر نیکرنٹ اکانٹ کے بجائے سیونگ اکانٹ میں رقم منتقل کرائی، سیونگ اکائونٹ کی وجہ سے 2 سال تک منصوبے کے لیے رقم نہیں نکلوائی جاسکی۔

Views= (1911)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

تازہ ترین