فرح گوگی کےریڈ وارنٹ کا فیصلہ؛ پی ٹی آئی ہتک عزت کا مقدمہ کرانےکیلئے تیار

فرح گوگی اور ان کے شوہر ایک گھنٹے میں وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے، عطااللہ تارڑ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطااللہ تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کو واپس لانے کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کیا جائے گا۔
ریڈ وارنٹ ایک ایسی بین الاقوامی درخواست ہوتی ہے جو انٹرنیشنل کرمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) کو بھیجی جاتی ہے جس میں کسی فرد کی گرفتاری اور حوالگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ دو دن قبل پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرحت شہزادی عرف فرح گوگی اور ان کی والدہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے سابق قائم مقام چیف ایگزیکٹو افسر اور اسپیشل اکنامک زون کمیٹی کے سیکریٹری کو فرح گوگی کی زیر ملکیت کمپنی کو 10 ایکڑ کے دو صنعتی پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔
پلاٹ حکومت کی طرف سے پیش کردہ رعایتی نرخ 8 کروڑ 30 لاکھ روپے پر الاٹ کیے گئے تھے لیکن ان کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 60 کروڑ روپے تھی۔
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان انہیں واپس نہیں بلائیں گے کیونکہ وہ اور ان کے شوہر گرفتاری کے ایک گھنٹے میں ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے۔
5 اپریل کو خاتون اول بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح خان ملک چھوڑ کر دبئی منتقل ہوگئی تھیں، اپوزیشن کی جانب سے ان پر کرپشن کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔
عطا تارڑ اور ملک احمد کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ کررہے ہیں، وکیل
فرحت شہزادی کے وکیل اظہر صدیق نے کہا ہے کہ فرح خان نے الزامات لگانے پر عطا اللہ تارڑ اور ملک احمد خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ سول عدالت میں دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فرحت شہزادی کے وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ فرح خان کا الزامات لگانے پر عطا اللہ تارڑ اور ملک احمد خان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ سول عدالت میں دائر کیا جا رہا ہے۔
اظہر صدیق نے بتایا کہ جس کمپنی کا نام لیا جا رہا ہے وہ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہے، اس کمپنی میں فرح خان اور فرح کی والدہ بشری خان شئیر ہولڈر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجداری کاروائی خلاف قانون ہے، مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن ایف آئی آر فراہم نہیں کی جارہی۔
انہوں نے کہا کہ 8 کروڑ 30 لاکھ کا پلاٹ ہے، تین ماہ بعد قسط 77 لاکھ 85 ہزار روپے ہے، اس میں سے صرف 1 قسط فروری میں 77 لاکھ 81 ہزار 150 روپے ادا ہوئی ہے، اس کے بعد حکم امتناع جاری ہوا تھا جس کے بعد قسطیں روک لی گئی تھیں۔

Views= (463)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین