پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوع فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوع فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
منگل کو الیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار اکبر ایس بابر نے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن دلچسپی نہ لیتا تو سکروٹنی مزید چار سال جاری رہتی۔
انہوں نے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں کو جواب دہ بنانے کے لیے بہترین موقع ہے، ایسی جماعتوں اور لیڈرز کو رول ماڈل ہونا چاہیے۔‘
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ ’قومی مفاد کا معاملہ ہے بہت جلد دیگر جماعتوں کے کیس بھی فائنل ہوں گے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’یقینی بنائیں گے کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو، ملک کے لیے جمہوریت سب سے ضروری سے جسے مضبوط بنانا ہے اور ووٹرز کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔‘
درخواست گزار اکبر ایس بابر کی جانب سے پیش ہونے والے مالیاتی امور کے ماہر ارسلان وردگ نے سماعت کے دوران بتایا کہ تحریک انصاف نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے اپنے 11 اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے تھے، بلکہ یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ چار ملازمین کے اکاؤنٹس میں فنڈنگ کی رقم آئی تھی۔
’تحریک انصاف نے کئی بیرون ملک سے آئے فنڈز کے ذرائع نہیں بتائے۔ امریکہ سے 4 لاکھ 37 ہزار ڈاکٹرز، برطانیہ سے 19 ہزار پاؤنڈز کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔‘
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ڈونرز کی تفصیل نہ ہونے پر تحریک انصاف کے وکیل انور منصور اپنے دلائل دے چکے ہیں۔
’انور منصور کے مطابق فنڈنگ کے وقت قانون میں ڈونر کی تفصیل دینا لازمی نہیں تھا۔‘
ارسلان وردگ کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کے دفتر میں لاکھوں روپے کا فنڈ جمع ہوا لیکن ڈونرز کا علم نہیں، مقامی سطح پر کھولے گئے اکاؤنٹس کا ریکارڈ منگوایا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 41 بینکوں نے الیکشن کمیشن کو اکاؤنٹس سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 دن میں کرنے کا سنگل بینچ کا حکم کالعدم قرار دیا تھا۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ’الیکشن کمیشن پر شک کی گنجائش نہیں، تمام جماعتوں سے ایک سا برتاؤ ہو گا۔ توقع ہے الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کے کیسز مناسب وقت میں نمٹائے گا۔
ممنوع فنڈنگ کیس کیا ہے؟
2014 میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن اکبر ایس بابر نے پارٹی کی اندرونی مالی بے ضابطگیوں کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ پارٹی کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈز موصول ہوئے اور مبینہ طور پر دو آف شور کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں ڈالرز ہنڈی سے پارٹی کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔
اس درخواست میں انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے بیرون ملک سے فنڈز اکٹھا کرنے والے بینک اکاؤنٹس کو بھی الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھا۔
14نومبر 2014 کو اکبر ایس بابر نے پارٹی فنڈز میں بے ضابطگیوں اور غیر قانونی و بیرونی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست الیکشن کمیشن میں جمع کروائی تھی۔
الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے ڈائریکٹر جنرل لا ونگ اور الیکشن کمیشن کے آڈیٹر جنرل کے افسران پر مشمل ایک کمیٹی قائم کی تھی۔

Views= (70)

گروپ جائن کرنے کے لیے کلک کریں (NewsHook) /#/ (NewsHook-2)

اہم خبریں/ تازہ ترین